خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 139
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۳۹ خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۹ء نہیں بنتے جو عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اپنے رب کریم کے لئے تھا اور جس قسم کی قربانی خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے آپ نے خدا کے حضور پیش کی اور جس قسم کا پیار بنی نوع انسان سے آپ کے دل میں موجزن تھا اور کس طرح آپ نے قیامت تک کے انسانوں کی خیر خواہی اور بھلائی کے لئے تعلیم دی لیکن ان ساروں کے باوجود محدود زندگی میں اور آپ کی زندگی بھی بڑی چھوٹی تھی۔محدود زندگی میں ہر لحظہ بھی اعمال جو ہیں غیر محدود زندگی کے تو نہیں بن سکتے اس واسطے آپ نے کہا میری زندگی کی بھی حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا فضل ہی مجھے جنت میں لے کے جائے گا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ خدا تعالیٰ نے بے انتہا فضل کیا محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر اور اللہ تعالیٰ آپ کے درجات کو بلند ہمیشہ کرتا چلا جائے اور ہمیں آپ کے اُسوہ پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور جن سہولتوں کی طرف قرآن کریم کی تعلیم نے ہماری راہنمائی کی ہے انہیں سمجھنے ، ان سے فائدہ اٹھانے کی ہمیں توفیق ملتی رہے اور خدا کرے کہ ہم اپنی تمام کمزوریوں کے اور غفلتوں کے باوجود اور ہر قسم کی غلط یلغاروں کے باوجود ہماری ایک نیکی کو وہ پسند کرے لیکن پسند اس طرح کرلے کہ وہ کہے کہ آؤ میں تمہیں اپنی رضا کی جنت میں داخل کرتا ہوں اور پھر ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی اور ہمیں توفیق دے کہ اس کے جو بندے ہیں ان کی خدمت بھی ہم اس کے مطابق کر سکیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی خواہش تھی۔آمین۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )