خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 138
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۳۸ خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۹ء ایک طرف ایسی زندگی ہے جس کی نعمتیں غیر محدود ہیں اس کا انتظام کر دینا محد وداعمال کی غیر محدود جزا کا اعلان کر دینا کتنی بڑی سہولت پیدا کر دی۔اگر انسان کو یہ کہا جاتا کہ جتنے عمل کرو گے اتنے ہم سے انعام لے لینا تو وہ تو پھر بعض بہکے ہوئے روحانی طور پر بعض بہکے ہوئے دماغوں کی طرح ان کو پھر دار الا بتلا میں آنا پڑتا۔پھر یہ مصیبتیں جھیلنی پڑتیں۔پھر کچھ عرصہ جنتوں میں گزارنا پڑتا۔پھر واپس آنا پڑتا اور اس دنیا کی جو نیکیاں ہیں میں تو سمجھتا ہوں کہ ساری عمر کی نیکیاں جو ہیں وہ خدا تعالیٰ کے پیار کے ایک جلوہ جو ہے اس کی قیمت بھی ادا نہیں کرسکتیں تو ستر سال کی زندگی دارالا بتلا اس دنیا میں اور اس کے مقابلے میں ایک سیکنڈ کی زندگی جنت میں اور پھر وہ واپس آجائے یہاں ستر سال گزارنے کے لئے پھر تو ایسا انتظام کرنا چاہیے تھا نا لیکن يُرِيدُ اللهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا انسان کو خدا تعالیٰ نے ضعیف اس جہت سے بھی بنایا کہ وہ اپنی محدود زندگی میں غیر محدود اعمال صالحہ بجا نہیں لاسکتا۔خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا ہو گیا نا۔انسان کو اتنی زندگی دی کہ اس کے اعمال جتنا مرضی زور لگالیں اس کے اعمال صالحہ غیر محدود نہیں ہو سکتے۔لیکن جو انعامات دیئے گئے جن کا وعدہ دیا گیا وہ غیر محدود ہیں تو یہ سہولت پیدا کر دی گئی انسان کے لئے۔جو تم محدود عمل کرو گے اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ اپنے پیار کا یہ جلوہ ظاہر کرے گا کہ غیر محدود انعامات کا تمہیں وارث بنادے۔لیکن میں نے بتایا ہے کہ یہ میں نے موٹے موٹے اصول چار جو مجھے نظر آئے وہ میں نے لئے ہیں ورنہ اسلام کا ہر حکم ہمیں یہ بتا تا ہے اور یہ حقیقت ہمارے اوپر کھولتا ہے کہ يُرِيدُ اللهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ ہمارے لئے سہولت کا سامان اور آسانی کا سامان پیدا کرے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ انسان ضعیف ہے اور وہ اس معیار کو نہیں پہنچ سکتا کہ جس کے اوپر یہ ہم کہہ سکیں کہ جو جنتیں ہیں وہ اس کے اعمال کے نتیجہ میں اس کو ملیں گی۔اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہاں عائشہ! میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی اس کی جنتوں میں جاؤں گا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ، آپ کی عظمت، آپ کا جلال ، آپ کا رتبہ اتنا بڑا ہے کہ کوئی انسان کیا آپ تو سارے انسان مل کے بھی اس مقام یعنی جو سارے انسان مل جائیں اور ان کے جو اعمال ہیں وہ لے لئے جائیں تو وہ اس مقام کے