خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 131
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۳۱ خطبہ جمعہ ۱۷۶ پریل ۱۹۷۹ء شریعتِ اسلامیہ کے ہر حکم میں آسانی کا پہلو ہے خطبه جمعه فرموده ۶ / ۱ پریل ۱۹۷۹ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیہ کریمہ تلاوت فرمائی:۔يُريدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا - (النساء : ٢٩) پھر حضور انور نے فرمایا:۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کو ضعیف پیدا کیا گیا ہے۔ضعیف اس معنے میں کہ خدا تعالیٰ نے جہاں اس کو نیکی کی بہت سی قوتیں اور طاقتیں عطا کی ہیں وہاں اس کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ ان راہوں کو چھوڑ کر جو اس کے رب کی طرف لے جانے والی ہیں، ان راہوں کو اختیار کرے جن پر چل کر شیطان لعین سے وہ اپنا تعلق قائم کر لیتا ہے اور ضعیف اس معنی میں بھی کہ غیر محدود انعامات اس کے سامنے رکھے اور محدود عمل سے زیادہ کی اسے طاقت نہیں دی۔کمزور ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ وہ تمہارے بوجھ ہلکے کرے۔تمہارے لئے آسانی پیدا کرے۔اسلامی شریعت کا گہرا مطالعہ ہمیں اس حقیقت کی طرف لے جاتا ہے اور اس صداقت پر قائم کرتا ہے کہ ہر حکم شریعتِ اسلامیہ کا ایسا حکم ہے جس میں آسانی کے پہلو کو مد نظر رکھا گیا