خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 124
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۲۴ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۹ء خدا تعالیٰ اس قابل سمجھتا ہے اس پاک بندے کو جو اس پاک کی خاطر خود کو پاک بناتا ہے کہ اس سے وہ پیار کرے اپنی رضا کی جنتوں میں اسے داخل کرے تو لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ۔پہلوں نے بھی باوجود اس کے کہ بہت سی غلط قسم کی روایتیں بھی ان کے پاس پہنچ چکی تھیں لیکن جو حقیقت تھی وہ بھی انہوں نے کھول کے بیان کر دی۔ان میں سے چند حوالے اس وقت میں پڑھ کے سناؤں گا آپ دوستوں کو۔ہمارے ایک مشہور بزرگ مفسر قرآن ہیں امام رازگی۔یہ ساتویں صدی ہجری کے ہیں۔ان کی وفات ہوئی یعنی چھٹی کہنا چاہیے زیادہ زندگی انہوں نے گزاری چھٹی میں، ۶۰۶ ہجری میں - لاَ إِكْرَاه فی الدین کے نیچے وہ لکھتے ہیں بعض حوالے دے کر پہلوں کے کہ خدا تعالیٰ نے لا إكراه فی الدین کی تفسیر کرتے ہوئے :- خدا تعالیٰ نے ایمان کی بنیا د جر وا کراہ پر نہیں رکھی بلکہ ہر انسان کی طاقت اور اختیار پر رکھی ہے۔توحید کے متعلق فیصلہ گن اور واضح بیان دینے کے بعد فرمایا کہ ان دلائل کی توضیح کے بعد کافروں کے لئے کفر پر قائم رہنے کا کوئی عذر باقی نہیں رہا۔سوائے اس کے کہ اس کو ایمان پر مجبور کر دیا جائے (یعنی جتنے دلائل دیئے جانے چاہیے تھے وہ دے دیئے گئے۔حق آگیا نا، جاءَ الْحَقُّ اور معجزات بھی دکھائے گئے اور کوئی وجہ نہیں کہ یہ ایمان نہ لائیں۔اب جو وہ ایمان نہیں لاتے تو ایک ہی صورت رہ جاتی ہے باقی کہ ان کو مجبور کیا جائے کہ وہ ایمان لائیں لیکن وہ کہتے ہیں ) اور کسی پر جبر وا کراہ دنیا میں جو دارالا بتلا اور دار الامتحان ہے جائز نہیں کیونکہ دین میں جبر وا کراہ کا مطلب یہ ہوگا کہ ابتلا اور امتحان کا مقصد باطل ہو گیا۔اسی فرمان کی طرح دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( آیت کا میں ترجمہ کروں گا) کہ جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کفر اختیار کرے اور ایک دوسری سورۃ میں فرمایا کہ اگر تمہارا رب جبر کرنا چاہتا تو زمین کے تمام لوگ ایمان لے آتے لیکن خدا نے ایسا نہیں کیا۔پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ ایمان لے آئیں اور پھر ایک اور جگہ فرمایا کہ ( شاید کہ تو تباہ کر دے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ (الشعراء: ۴)) شاید کہ تو تباہ کر دے اپنی جان کو اس فکر سے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔اگر ہم انہیں مجبور کرنا چاہتے تو ہم ان پر آسمان سے کوئی