خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 123 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 123

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۲۳ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۹ء صداقت اور شان کو ظاہر کرنے کے لئے معجزات دکھائے انسان کو۔اور یہ سلسلہ جو ہے وہ میں نے جیسا کہ بتا یا قیامت تک ممتد ہے لیکن اس قدر دلائل سننے کے بعد اس قدر نشانات دیکھنے کے بعد بھی جس کا دل حق سے کراہت رکھتا اور جس کا سینہ بشاشت سے کفر کو قبول کرتا ہے اس پر جبر کر کے تو نہیں منوا یا جا سکتا۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا یہاں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ جو نیکی ہے اس کا بدلہ تو خدا تعالیٰ نے دینا ہے اگر میں یا آپ کسی پر جبر کر کے اس سے نیکی کے کام کروائیں تو وہ میرے سامنے ہاتھ پھیلائے گا نا کہ مجھے بدلہ دوستم نے جو مجھ سے یہ کام کروائے ہیں مجھے خدا کی رضا کی جنتوں کا پروانہ لکھ کے دو۔تو کون ایسا انسان ہے جو کسی دوسرے انسان کو ایسے پروانے لکھ کے دینا شروع کر دے اور خدا ان کو مان بھی لے۔بدلہ تو خدا نے دینا ہے اور خدا ظاہری اعلان کو دیکھ کر تو بدلہ نہیں دیتا۔خدا تعالیٰ تو ، بعض بد بخت ایسے لوگ بھی ہیں کہ جن کے اعمال انسان کی نگاہ میں بڑے پیارے اور مخلصانہ ہوتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ انہیں قبول نہیں کرتا بوجہ کسی ایسی خباثت کے جوان اعمال کے پیچھے پوشیدہ ہوتی ہے اور ان کے منہ پر ماردیے جاتے ہیں ان کے اعمال نامے۔حدیثوں میں کثرت سے اس کا ذکر ہے تو جس نے بدلہ دینا ہے اور جو عَلَامُ الْغُيُوبِ ہے اور جس پر کوئی زبر دستی کر کے اس کے قانون اس کی خواہش اور منشا کے خلاف کچھ کر وا نہیں سکتا۔اس سے کیسے جزا دلوائی جاسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو مَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ (الكهف:۳۰) کا اعلان کیا۔خدا تعالیٰ نے تو یہ کہا کہ اپنی مرضی سے محمد پر ایمان لاؤ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور مجھ سے اگر پیار حاصل کرنا چاہتے ہوتو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کرو، اپنی مرضی سے لا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ تم پر کوئی زبردستی نہیں ہے۔مسلمان ہونے کے بعد بھی کوئی زبردستی نہیں کیونکہ اگر مسلمان ہونے کے بعد کوئی زبردستی ہوتی تو اسلام کے اندر نہ فاسق کوئی ہوتا نہ منافق کوئی ہوتا۔اپنی مرضی سے اخلاص کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت جو کامل محبت کا تقاضا کرتی ہے جس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کا پیار ملتا ہے اس کی معرفت ملتی جس کے نتیجہ میں خدا کا عرفان حاصل ہوتا خدا کے لئے دل میں محبت کا ایک سمندر موجزن ہوجاتا ہے۔اس کے بعد