خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 111 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 111

خطبات ناصر جلد ہشتم خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۷۹ء ہر شے ایک آیت ایک نشان ہے۔ایک ایسی چیز ہے جو ہمیں پتا بتاتی ہے حقائق کا۔جو ہمیں پتا دیتی ہے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات اور اس کی عظمت اور اس کے جلال اور اس کی قدرت کا۔ہر چیز ہماری راہنمائی کر رہی ہے ہمارے پیدا کرنے والے رب کی طرف اور صرف مادی اشیاہی نہیں بلکہ اس کا ئنات کو ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دوحصوں میں تقسیم کیا۔ایک تو مادی اشیاء ہیں جن کو آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسرے زمانہ ہے اور اس کو وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ سے تعبیر کیا گیا ہے۔زمانہ اپنے اثرات دکھاتا ہے ان جہانوں میں اور زمانہ سے پیدا ہونے والا ہرا ثر ہمیں کوئی سبق دے رہا ہے۔ہمیں کچھ سکھاتا ہے ہماری رہنمائی اور رہبری کرنے والا ہے تو یہاں یہ فرمایا کہ یہ کائنات جو ہے اس کے ہر دو حصے مادی حصہ بھی اور زمانہ بھی جو اپنی ذات میں ایک حقیقت ہے۔زمانے کے اثرات مادی دنیا پر ہوتے ہیں مثلاً ان کا بڑا اور چھوٹا ہونا ہماری فصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔بعض ایسے پودے ہیں جن کے لئے دنوں کا چھوٹا رہنا ضروری ہے۔بعض ایسے پودے ہیں جن کے لئے چھوٹے دنوں کا اور لمبی راتوں کا ہونا ضروری ہے۔بعض ایسے پودے ہیں جن کے لئے لمبے دنوں کا اور چھوٹی راتوں کا ہونا ضروری ہے۔بعض ایسے پودے ہیں جن کے لئے سورج کی روشنی اور اندھیرے کی ایک جیسی لمبائی کا ہونا ضروری ہے۔تو یہ زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔زمانہ ہر آن حرکت میں ہے اور فاصلے کی نسبتوں کو قائم کرنے والا ہے۔کس قدر تیزی سے کوئی چیز چل رہی ہے یا کتنی دور ہے کوئی چیز۔اس وقت اختصار کے ساتھ زمانہ کے متعلق اس حقیقت کو بیان کر دینا کافی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان کو ہم نے دو طاقتیں دی ہیں ایک ذکر کی اور ایک تفکر کی اور جو عقل مند ہیں خالص اور صحیح عقل رکھنے والے عقل اور کب میں یہ فرق ہے۔عقل میں جب ہوائے نفس شامل ہو جائے اور وہ خالص نہ رہے تب بھی عربی زبان اسے عقل ہی کہتی ہے مثلاً آج کی مہذب دنیا جو دنیا میں ڈوب گئی اور خدا کو بھول گئی وہ بھی عربی زبان کے لحاظ سے عقلمند کہلائیں گے اگر چہ ان کی عقل میں ان کی ادنی خواہشات اور میلان نفس کی بھی بڑی ملاوٹ آگئی اور انہوں