خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 63 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 63

خطبات ناصر جلد ہفتم ۶۳ خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۷۷ء ہمیں کہا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا ورد کرو، خدا تعالیٰ کی تقدیس کرو تحمید کرو، اس کی حمد کرو۔اسے ہر نقص سے پاک قرار دو۔زبان کے ساتھ اقرار کرو، اپنے نفس کے سامنے بھی اور دنیا کے سامنے بھی کہ جس اللہ پر ہم ایمان لائے ہیں وہ قدوس ذات ہے۔وہ ہر قسم کے نقص اور عیب اور کمزوری اور برائی سے پاک ذات ہے۔کسی قسم کی کمزوری اور برائی ہمارے اللہ کی طرف منسوب ہی نہیں ہوسکتی اور ہر قسم کی تعریف کا سر چشمہ بھی وہی ہے یعنی جہاں کہیں کسی اور میں ہمیں کوئی تعریف کے قابل چیز نظر آتی ہے اس کا سر چشمہ اور منبع خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور تمام محامد کا مرجع اس کی ذات ہے۔ہر حمد خدا تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحة : ٢) ہم یہ ورد بھی کرتے ہیں لیکن یہ جو ورد ہے یہ انسان کی محدودزندگی میں مزید حد بندیوں کے اندر بندھا ہوا ہے مثلاً ایک استاد ہے وہ کلاس میں لیکچر دے رہا ہے اس وقت وہ سُبْطنَ اللَّهِ اور الْحَمْدُ لِلَّهِ کا ور د نہیں کر سکتا لیکن اس کے دماغ کا ایک پہلو ایسا ہے جو اس محدود زندگی میں اس قسم کی حدود کے اندر بندھا ہوا نہیں اور وہ ہے ذکر بالقلب یعنی دل کے ساتھ ، اپنی فراست کے ساتھ ، اپنے ذہن کے ساتھ ، اپنے مائنڈ (Mind) کے ساتھ خدا تعالیٰ کے ذکر میں لگے رہنا اور اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ذات کو پہچانا اور اس کی صفات کی معرفت رکھنا اور خدا تعالیٰ سے ایک ذاتی تعلق کو قائم کرنا ، خدا تعالیٰ سے یہ تعلق بغیر کسی ایسی وجہ کے رکھنا جس کا تعلق مادی نعمتوں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی انسان پر بے شمار مادی نعمتیں ہیں لیکن ان واسطوں کے ساتھ نہیں بلکہ بلا واسطہ تعلق قائم کرنا۔امام راغب کو خدا تعالیٰ نے بڑا بزرگ دل اور بڑا صاحب فراست دماغ دیا تھا۔انہوں نے ایک جگہ ذکر کے سلسلہ میں عربی کے معنی بتاتے ہوئے بنی اسرائیل اور امت محمدیہ میں مقابلہ کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو یہ کہا گیا کہ میری نعمتوں کو یاد کرو اور میرا ذکر کرو اور امت محمدیہ کو کہا گیا کہ میرا ذکر کرو وہاں نعمتوں کا کوئی ذکر نہیں بلکہ کہا گیا ہے کہ میرا ذکر کرو میں تمہیں اس کا بدلہ دوں گا اور یہ امت محمدیہ کی خصوصیت ہے۔ذاتی تعلق تو پہلوں نے بھی اپنے ربّ سے رکھا لیکن جس رنگ میں اُمت محمدیہ کومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اپنے پیارے رب سے ذاتی تعلق رکھنے کی توفیق ملی وہ پہلی امتوں کو نہیں ملی۔خدا سے ذاتی تعلق