خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page vii
V اور اس کو سنبھالنا خاص طور پر ضروری ہے۔خاص طور پر اس لئے کہ چوتھی نسل کے جو بچے پیدا ہو رہے ہیں جب وہ جوان ہوں گے یا جب ان میں سے بہت سے جوان ہوں گے تو اس وقت جماعت احمد یہ خدا کی راہ میں اپنی جدوجہد میں غلبہ اسلام کے لئے اپنی کوششوں میں ایک ایسے زمانہ میں داخل ہو چکی ہوگی جس کو ہمارے نزدیک غلبہ اسلام کا زمانہ کہا جانا چاہیے۔جیسا کہ میں نے اعلان کیا ہے کہ جماعت احمدیہ کی زندگی کی دوسری صدی غلبہ اسلام کی صدی ہے اور ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں جو کہ غلبہ اسلام کا زمانہ ہے جماعت پر 66 نئی ذمہ داریاں پڑنے والی ہیں۔“ ۲- ۱۹ جون ۱۹۷۸ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے لنڈن میں منعقد ہونے والی کسر صلیب کا نفرنس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔یہ جو ہماری کانفرنس ہوئی ہے یہ بھی اسی جہاد کا ایک حصہ ہے۔یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ۲، ۳، ۴ جون کو ہماری کا نفرنس ہوئی اور ۵ رجون کو ساری دُنیائے عیسائیت نے اسلام کو قبول کر لینا ہے۔یہ ایک اور قدم ہے جو آگے بڑھا ہے۔امت محمدیہ نے تبلیغی میدان میں خدائی وعدوں کے مطابق جتنے قدم آگے بڑھائے ہیں اُن میں سے ہر قدم پر مخالفین کی زندگی میں ایک موافق اسلام حرکت پیدا ہوتی رہی ہے اور ان کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا جاتا رہا ہے۔شروع سے آخر تک ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ آہستہ آہستہ عظیم تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں۔یہ ایک بہت لمبا مضمون ہے اس کے لئے ساری صدیوں پر غور کرنا پڑے گا۔“ ۷۔۲۵ اگست ۱۹۷۸ ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔وئیں سمجھتا ہوں مجھ میں اور جماعت میں کوئی فرق نہیں کیونکہ یہ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔سب کا مقصد ایک ہے، ایک جہت ہے جس کے لئے ہم کوشش کر رہے ہیں۔ایک مقصد ہے جس کے لئے ہم دعائیں کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضورا اپنی اپنی بساط کے مطابق قربانیاں پیش کر رہے ہیں اور اخلاص اور وفا کا نمونہ دکھا رہے ہیں۔پس خلیفہ وقت اور جماعت کو علیحدہ کیسے کیا جاسکتا ہے ساری جماعت اپنی جگہ دعائیں کر رہی ہے لیکن یہ جو ایک وجود ہے اس میں خلافت کا ایک بڑا ہی اہم مقام ہے اور یہ نہ خریدا جاسکتا ہے اور نہ چھینا جاسکتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔اسی سفر میں مجھ سے کسی نے پوچھا کہ خلافت سے پہلے