خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page vi of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page vi

IV ۲ ۲۸ جنوری ۱۹۷۷ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے طالب علموں کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:۔د میں طالب علموں سے خاص طور پر کہتا ہوں کہ چونکہ گرمیوں کی چھٹیاں آ رہی ہیں وہ ضرور وقف عارضی پر جائیں ان کا علم بڑھے گا۔جہاں وہ جائیں گے وہاں کے لوگوں کے لئے انہیں نمونہ بنے کی کوشش کرنی پڑے گی اور اگر نوجوان ان کے لئے نمونہ بنیں گے تو ان پر بڑا اثر ہوگا کہ چھوٹی چھوٹی عمروں والے اس قسم کا کام کر رہے ہیں۔ویسے ہم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے تو اپنی عمر کی طرف کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔انہوں نے اپنی ذمہ داری کی طرف دیکھا تھا اور اتنے شاندار کام کئے اور اتنا اچھا نمونہ بنے ہمارے لئے کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔وہ بھی تو آخر نوجوان ہی تھا جس نے سندھ سے اسلام پر حملہ آوروں کو شکست دی اور وہ بھی تو نو جوان ہی تھا جس نے سپین میں عیسائیوں کے اسلام کو کمزور کرنے کے منصوبوں کو نا کام کر کے اسلام کی رحمتوں کو ان علاقوں میں پہنچایا۔وہ کوئی بڑے بزرگ اور عمر رسیدہ لوگ تو نہیں تھے۔“ ۳ ۲۸ جنوری ۱۹۷۷ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے زیر تربیت افراد کے متعلق فرمایا:۔ایک شخص جو باہر سے آتا ہے احمدی ہوتا ہے اور احمدیت کو قبول کرتا ہے وہ تو صرف تربیت قبول کرنے کا اعلان کرتا ہے۔بعض لوگ سمجھا کرتے ہیں کہ احمدیت میں آنے سے پہلے ہی اسے ولی اللہ بن جانا چاہیے تب اس کی بیعت کروانی چاہیے۔اگر وہ احمدیت سے باہر ولی اللہ بن سکتا ہے تو پھر اسے احمدی ہونے کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔بیعت تو صرف اس بات کا اعلان ہے کہ وہ آج احمدیت کی تربیت قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔“ ۴ ۲۱ اکتوبر ۱۹۷۷ ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے جماعت کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:۔اور ایک احمدی دماغ کو میں کہتا ہوں کہ کسی جگہ ٹھہر نا نہیں کیونکہ خدا نے کہا ہے کہ کوئی چیز بھی لے لو، خشخاش کا دانہ ہو یا ایٹم کا ذرہ اس کی تحقیق کسی جگہ ختم نہیں ہوتی۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے جو کچھ حاصل کرنا تھاوہ حاصل کر لیا ہے اور اب باقی کچھ نہیں رہا۔“ ۵ ۲۴ مارچ ۱۹۷۸ ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے احمدی بچوں کی تربیت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد چوتھی نسل کی پیدائش شروع ہو چکی ہے