خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 52
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۲ خطبہ جمعہ ۱۸ / مارچ ۱۹۷۷ء گئی۔عرب میں بھی دستور تھا کہ ایک اونٹ کو ذبح کرنے کی ضرورت ہوتی تو بڑے فخر کے ساتھ دس ذبح کر دیتے صرف اپنی یہ شان ظاہر کرنے کے لئے کہ جی ہمارے پاس اتنی دولت ہے اونٹوں کی شکل میں ہمیں کوئی پرواہ ہی نہیں۔اسلام نے اس سے بھی منع کیا ہے۔پس یہ عظمت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ زندگی کے ہر پہلو کے متعلق آپ نے تعلیم دی۔جن چیزوں کا تعلق بطور خادم انسان کے ساتھ تھا ان میں شکر گزار بندے ہونے کی حدود قائم کیں کہ اگر ان حدود سے باہر نکلو گے تو خدا تعالیٰ کے ناشکرے ہو گے۔اسراف سے منع کیا۔کھانے میں بھی اسراف سے منع کیا اور انسان کو طیب کی طرف توجہ دلائی۔اس کا میرے مضمون سے براہ راست تعلق نہیں میں ویسے ہی بتا رہا ہوں۔اُس وقت کھانے کا جو علم تھا وہ لوگ ان چیزوں کو سمجھ ہی نہیں سکتے تھے اب جو انسانی علم نے ترقی کی ہے تو ہمیں پتہ لگ رہا ہے کہ ہر انسان کے لئے اس کے جسم کے مناسب حال ایک غذا ہے۔ایک تو انسان کی نوع کے لئے ایک مناسب حال غذا ہے اور جو مناسب حال نہیں اس سے منع کر دیا مثلاً سور نہ کھاؤ تمہارے مناسب حال نہیں لیکن جو نوعِ انسانی کے لئے مناسب حال غذا ہے اس کی آگے بے شمار قسمیں ہیں ان کے بارے میں بھی تعلیم دی اور ساتھ یہ تعلیم بھی دی کہ ضیاع نہیں کرنا، غلط استعمال نہیں کرنا کیونکہ اس میں دونوں طرف کا نقصان ہے۔وہ چیز بھی ضائع جائے گی اور تمہاری صحت پر بھی اس کا بُرا اثر پڑے گا۔ہر دو جہان کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت ہیں۔محض انسان کے لئے نہیں بلکہ ہر دو جہان کے لئے آپ کا وجود رحمت ہے اور ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اور آپ کے سارے ارشادات کی ، جو کہ قرآن کریم کی تفسیر ہیں، ہم اتباع کرنے والے ہوں۔خدا تعالیٰ کی محبت کو پانے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے کے لئے ، اس کے قرب کے حصول کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُسوہ بنایا گیا ہے آپ کو بطور اُسوہ کے قائم کیا گیا ہے لیکن دنیا کی اکثریت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظمت سے ناواقف ہے اور ہمارے ایمان کے مطابق آج جماعت احمدیہ کو اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ یہ جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چل کر ، اس رحمت کا دنیا کے سامنے مظاہرہ کر کے،