خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 51 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 51

خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۱ خطبہ جمعہ ۱۸ / مارچ ۱۹۷۷ء کے مجرم ہو گے اگر ایسا کرو گے۔گھر میں پالتو مرغیاں ہوتی ہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا خصوصاً گاؤں میں کہ اگر کسی کے ہاں مہمان آجائے تو بعض دفعہ سارا گھر ہی دوڑا پھرتا ہے ایک مرغی کو پکڑنے کے لئے اچھا خاصہ ہنگامہ ہوتا ہے۔بعض لوگوں کے گھر میں بندوق بھی ہوتی ہوگی جس سے وہ شکار کر سکتے ہیں لیکن حکم یہ دیا کہ پالتو جانور کو تیر سے یا کسی اور شکار کرنے والے ہتھیار سے ( وہ سب اس کے اندر آ جاتے ہیں) نہیں مارنا کیونکہ اگر مثلاً تیر کے ذریعہ اس کو بیس گز سے مارا تو ہیں گز چل کر اس کے پاس ذبح کرنے کے لئے پہنچنے میں نصف منٹ لگے گا اور یہ نصف منٹ اس جانور کو دکھ میں گزارنا پڑا۔اس دکھ سے آپ نے اس کی حفاظت کی۔آدھا منٹ ، بیس گز پر وہ آدھے منٹ میں پہنچ جائے گا۔نصف منٹ بھی آپ نے اس جانور کو دکھ میں دیکھنا پسند نہیں کیا جس کے کھانے کی اجازت ہے۔اس واسطے کہا کہ اس کو پکڑو اور ذبح کرو۔ذبح کرتے وقت تو ایک سیکنڈ میں تکلیف کا احساس غائب ہو جاتا ہے جس طرح ہمیں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے شاید تکلیف ہوتی ہی نہ ہو۔پھر جو جانور نہیں مثلاً درخت ہیں ان کے اندر اپنا ایک زندگی کا احساس ہے ، ان کو بغیر ضرورت کے کاٹنے کی اجازت نہیں۔اب ہم بعض دفعہ یہ حسین اور محسن تعلیم بھول جاتے ہیں۔پس بغیر ضرورت کے درخت کاٹنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ہر چیز جمادات نباتات وغیرہ ہر ایک کے متعلق اسلام کی تعلیم ہے اور اس کے استعمال کو محدود کیا گیا ہے۔قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ ہر چیز کو ہم نے انسان کی خدمت کے لئے پیدا کیا ہے۔اس حد تک اس کو استعمال کرنے کی اجازت ہے جس حد تک وہ خدمت کر رہی ہو۔مثلاً اس وقت امریکہ اتنا امیر ملک ہے کہ بعض دفعہ اخباروں میں یہ آجاتا ہے کہ اس کی رکابیوں میں ، پلیٹوں میں بچا ہوا کھانا اتنا ہے کہ جو بڑے بڑے ملکوں کی ایک وقت کی غذا پوری کر دیتا ہے۔اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی۔اسلام نے یہ کہا ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ اپنی پلیٹ میں اتنا ڈالو جتنا ختم کرلو۔ایک لقمہ بھی سالن کا یا کسی اور کھانے والی چیز کا پلیٹ میں نہ بچے۔اس واسطے کہ جو سالن پک گیا ہے اگر وہ بچ جائے گا تو کسی انسان کے کام آجائے گا۔اس کی اجازت دی گئی ہے۔سکھر لكم ما في السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ ( الجاثیۃ : ۱۴) میں لیکن ضیاع کی اجازت نہیں دی