خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 559 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 559

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۵۹ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۷۸ء گزرتا چلا گیا۔ہفتوں کے بعد ہفتے ، مہینوں کے بعد مہینے اور سالوں کے بعد سال گزرتے چلے گئے لیکن قبل اس کے کہ اس کفر کی حالت میں اس کی موت واقع ہو جائے اللہ تعالیٰ نے اس کو تو بہ کی توفیق دی ثُمَّ امَنُوا پھر وہ اسلام میں داخل ہو گیا۔جس دروازے سے وہ اسلام میں پہلے داخل ہوا تھا اور جس دروازے سے وہ اسلام سے باہر نکل گیا تھا اسی دروازے سے پھر وہ دوسری بار تو بہ کر کے اسلام میں داخل ہو گیا کیونکہ اسلام نے آزادی دی ہے۔ایسا شخص اگر چاہے تو تو بہ کرے اور دوسری بار بھی اسلام میں داخل ہو جائے۔پھر کچھ مہینے یا سال گزر گئے اور پھر اس کی بد بختی آڑے آئی اور قبل اس کے کہ اپنی دوسری دفعہ ایمان کی حالت جو خدا تعالیٰ نے اس کے لئے پیدا کی تھی خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بنتے ہوئے مرتے دم تک ایمان پر قائم رہتا اور ایمان پر اس کا خاتمہ ہوتا اس نے اسلام کے چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ایسا کرنے میں اسے کوئی روک نہیں تھی۔جس دروازے سے تم دو دفعہ اسلام میں داخل ہوئے تھے اور مسلمان بنے تھے ، وہ دروازہ اب بھی کھلا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کے اوپر کوئی ایسے آدمی نہیں مقرر کئے جو اسے یہ کہیں کہ نہیں انہیں !! تم باہر نہیں نکل سکتے۔کوئی روک نہیں بے شک تم باہر نکل جاؤ۔چنانچہ اس نے اسلام چھوڑنے کا اعلان کر دیا اور پھر اس کو توبہ کی توفیق نہیں ملی اور نہ اصلاح کرنے کا موقع ملا اور بد بخت انسان پر کفر کی حالت میں موت وارد ہو گئی۔پس ایسے لوگ جن کا خاتمہ بالخیر نہیں ہوتا بلکہ ان کی موت کفر کی حالت میں وارد ہوتی ہے تو ان کے لئے مغفرت کا کیا سوال ہے؟ اسی مضمون کو سورۃ آل عمران کی اس آیت میں بھی بیان فرمایا ہے :۔ج إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا أَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَ أُولَبِكَ هُمُ الضَّالُونَ (ال عمران:۹۱) جو لوگ ایمان لانے کے بعد اپنی مرضی سے ارتداد کی راہوں کو اختیار کریں اور کفر کر میں خدائے واحد و یگانہ کا اور انکار کریں اللہ کے بزرگ ترین بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا۔پھر تو بہ کی توفیق نہ پائیں اور اپنے کفر میں بڑھتے چلے جائیں اور ان کا اتمہ بالخیر نہ ہو بلکہ کفر پر ان کی موت وارد ہو، ان کی تو بہ قبول نہ ہوگی اور وہ گمراہ ہیں۔