خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 554
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۵۴ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۷۸ء کے تو میں صرف ترجمے سنا دوں گا اور بعض آیات کی تفسیر بتاؤں گا تا کہ یہ مضمون پوری طرح آپ کے ذہن نشین ہو جائے۔سورۃ محمد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطَنُ سَوَلَ لَهُمْ وَ اَمَلىَ لَهُمُ (محمد: ۲۶) وہ لوگ جو ہدایت ظاہر ہونے پر پھر گئے شیطان نے ان کو ان کا عمل اچھا کر کے دکھایا ہے اور ان کو جھوٹی امیدیں دلائی ہیں۔اس آیت میں بھی یہی بتایا ہے کہ جو شخص اپنی مرضی سے کسی کمزوری یا بدقسمتی کی وجہ سے یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اسلام سے ارتداد اختیار کرتا ہے اور اسلام کو چھوڑتا ہے اور خود اپنی مرضی سے اس کا اعلان کرتا ہے اور اسلام میں داخل ہونے کے بعد وہ خود دائرہ اسلام سے باہر نکل جاتا ہے حالانکہ وہ اسلام کو اچھی طرح سے سمجھ چکا تھا اور ہدایت اس پر ظاہر ہو چکی تھی لیکن شیطان نے ان کو ان کا عمل اچھا کر کے دکھایا اور ان کو جھوٹی امیدیں دلائیں جن پر بھروسہ کر کے دنیوی لالچ میں آکر لوگوں نے ارتداد کو اختیار کیا حالانکہ جو شخص شیطان کا کہا مان کر اسلام کو چھوڑتا ہے اور شیطان کی جھوٹی امیدوں پر اپنے اعمال کی بنیا د رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ سے کسی خیر کی امید نہیں رکھا کرتا۔سورۃ مائدہ میں ہے:۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَفِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لابِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِي (المائدة: ۵۵) اے ایماندارو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو وہ یا در کھے اللہ اس کی جگہ جلد ہی ایک ایسی قوم لے آئے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے۔جو مومنوں پر شفقت کرنے والے ہوں گے اور کافروں کے مقابلہ پر سخت ہوں گے۔کافروں کا اثر قبول کرنے کے لئے ان کی طبائع کبھی تیار نہ ہوں گی۔وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور اپنے نفوس کے خلاف جہاد کرتے ہوئے اپنی فطرت کو خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق اسلامی ہدایت