خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 550
خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۷۸ء اور لوگوں کو کہہ دے کہ یہ سچائی اور صداقت کامل شکل میں تیرے رب کی طرف سے ہی نازل ہوئی ہے، پس جو چاہے اپنی مرضی سے اس پر ایمان لائے اور جو چاہے اپنی مرضی سے اس کا انکار کر دے۔ہاں اس بات کو یا درکھو کہ اگر تم اپنے نفسوں پر ظلم کرو گے اور تمہاری فطرت کے ا جو تقاضے ہیں تم ان کو پورا نہیں کرو گے اور ان راستوں کو اختیار کرو گے جو تمہاری ترقی کی راہ میں روک بنتی ہیں اور تمہیں تنزل کی طرف لے جانے والی ہیں اور خدا سے دور لے جانے والی ہیں تو یقینا تمہیں خدا کا پیار اور اس کی جنتیں تو پھر نہیں ملیں گی۔ایسی صورت میں ایک آگ تیار کی گئی ہے جس کی چار دیواری نے تمہیں گھیرا ہوا ہے۔ان دو آیتوں میں مخاطب کیا گیا ہے ان لوگوں کو جن کے سامنے اسلام پہلی دفعہ پیش کیا گیا۔اسلام آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی جو تبلیغ کی تو مخاطب غیر مسلم تھے اور ان غیر مسلموں سے یہ کہا گیا کہ اسلام ایک صداقت ہے۔یہ ایک کامل ہدایت ہے۔اسلام نے تمہارے سامنے وہ راہیں کھولی ہیں جو تمہیں خدا تعالیٰ تک پہنچانے والی ہیں۔تمہارے فطرتی تقاضوں کو پورا کرنے والی ہیں اور تمہیں خدا کا عبد بنانے والی ہیں۔اس دائرہ اسلام میں داخل ہونا یا نہ ہونا یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے۔اگر تم دائرہ اسلام میں اعتقاداً اور دل کی تصدیق کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے اور اس کے مطابق عمل کرو گے تو اس میں تمہارا اپنا فائدہ ہے اور اگر تم ان راہوں کو اختیار نہیں کرو گے اور جو تمہاری بھلائی کی چیز ہے اس پر چلنے کے لئے تیار نہیں ہو گے تو اس کا نقصان تمہیں پہنچے گا۔اسلام کی بہترین تعلیم کو چھوڑ کر تم جن راہوں کو اختیار کرو گے وہ خدا سے دور لے جانے اور جہنم کی طرف پہنچانے والی ہیں۔ہر شخص کو یہ بتایا گیا ہے کہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے سارے دروازے تمہارے اوپر کھول دیئے گئے ہیں اور ان دروازوں پر کوئی دربان مقرر نہیں کیا گیا جو تمہیں اندر جانے سے روکے۔خود تم نے ہی اندر داخل ہونے کا فیصلہ کرنا ہے اور پھر بے روک ٹوک تم ان کے اندر داخل ہو سکتے ہو اور کوئی ایسی بیرونی طاقت نہیں جو تمہیں دھکے دے کر یا خنجر دکھا کر یا تمہارے سروں پر تلوار لہرا کر یا رائفلوں کا ڈراوا دے کر یا ایٹم اور ہائیڈ روجن بم کی دھمکی دے کر کہے کہ وہ دائرہ اسلام کے اندر داخل ہونے کی اجازت