خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 543
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۴۳ خطبہ جمعہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۷۸ء کے اندر اپنے ساتھی کے لئے انس اور ہمدردی اور پیار اور غمخواری پیدا کی اور ضرورتوں کے وقت ان کے کام آنا ان کی خدمت کرنا، بے لوث خدمت یہ چیز خلق آدم کے وقت خدا تعالیٰ نے فطرتِ انسانی کے اندر پیدا کی خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا۔غرض خدا تعالیٰ نے پہلے دن سے ہی پیدائش آدم کے وقت سے ہی انسانی فطرت کو دو پہلوؤں سے خوبصورت بنایا۔ایک اس پہلو سے کہ اس کی فطرت میں یہ رکھا کہ وہ اپنے مولیٰ سے اپنے رب سے پیار کرنے والا ہو۔اپنی استعداد کے دائرہ کے اندر ترقی کرے اور اس پیار کو بڑھائے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرے۔انسان تو بہر حال محدود ہے لیکن خدا تعالی غیر محدود ہے۔خدا تعالیٰ کو مدنظر رکھتے ہوئے کہیں ایسا مقام نہیں آ سکتا کہ ہم کہیں کہ انسان نے تو آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن خدا تعالیٰ اور زیادہ پیار نہیں دے سکا۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کے خزانے تو غیر محدود ہیں۔اس لئے کہا کہ جس حد تک تم اس کے پیار کو حاصل کرنے کی خلوص نیت کے ساتھ اور مقبول اعمال کے ساتھ کوشش کرتے چلے جاؤ گے اس حد تک خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرتے چلے جاؤ گے۔پھر دوسری طرف پہلے دن سے ، آدم کی خلق کے وقت سے اس میں یہ رکھا کہ وہ اپنے ساتھی سے پیار کرے۔دو علیحدہ علیحدہ چیزوں کا ملاپ نہیں کیا ( جس طرح کہ اب یہاں بھی شروع ہو گیا ہے کہ امریکہ کے لڑکے اور پاکستان کی لڑکی کا ازدواجی رشتہ قائم ہو گیا) بلکہ آدم کے اپنے گوشت پوست سے عورت بنی اور پہلے دن سے ہی اس کی فطرت میں اپنے زوج، اپنے ساتھی ، اپنی بیوی کا پیار رکھا گیا ہے۔اسی واسطے اسلام نے کہا ہے کہ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ جس نے فطرت کے اس پہلے تقاضے کو پورا نہیں کیا وہ دوسرے بنی نوع انسان کے ساتھ بھلائی اور نیکی کیسے کرے گا۔یہ میں ضمنا بات کر رہا ہوں کہ بڑی ذمہ داری ہے انسان پر کہ اپنی بیویوں کے ساتھ بھلائی اور نیکی کرنی ہے ان کے لئے خیر کا موجب ہوتا ہے ان کو ستانا نہیں اور تنگ نہیں کرنا اور ان کے لئے کام کرنا ہے، اپنے لئے ان سے کام نہیں لینے۔بہت سی بدعتیں دنیا میں پیدا ہو چکی ہیں ان سے بچنے کی طرف میں آپ کو تو جہ دلا رہا ہوں۔ا اب میں ذرا مختصر کر کے اسے پھر دہراتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی