خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 542 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 542

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۴۲ خطبہ جمعہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۷۸ء اس سے محروم ہیں۔بہر حال یہ ممتاز گروہ بھی اپنے فطرتی فضائل میں برابر نہیں بلکہ ان میں سے کوئی اعلیٰ درجہ پر ہے اور کوئی اس سے کم اور کوئی اس سے کم۔یہ دو جوش جن کا میں نے ذکر کیا ہے یعنی انسان کی فطرت کا یہ تقاضا کہ اس کا تعلق اپنے پیدا کرنے والے رب کے ساتھ قائم ہو اور اس کی فطرت کا یہ تقاضا کہ وہ دوسروں سے ہمدردی کرنے والا ، ان کی خیر خواہی کرنے والا اور ان کی خدمت کرنے والا ہو ان کے متعلق قرآن کریم نے یہ اعلان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدائش آدم کے وقت سے ہی یہ دو نمایاں خاصیتیں انسان کی فطرت میں پیدا کر دی تھیں۔چنانچہ آدم کی پیدائش کے متعلق قرآن کریم میں آیا ہے۔فَإِذَا سَوَّيْتُه وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحى (الحجر : ۳۰) خدا کہتا ہے کہ جب میں آدم میں اپنی روح پھونکوں یعنی آدم کی روح کو ایسا بناؤں کہ اس کے قومی پر میری صفات کا رنگ چڑھ سکے اور وہ میرا مظہر بن جائے اور جس حد تک نوع انسان مظہر صفات باری بن جائیں اس حد تک ان میں سے ہر ایک کی روح خدا تعالیٰ سے جو کہ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (النور : ۳۶) ہے مشابہت اختیار کرے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ یہ تعلق فطری ہے اور انسان کے دل میں اپنے رب کریم سے پیار پیدا کیا گیا ہے اور سب سے زیادہ پیار محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے کیا۔اسواسطے انسانی فطرت کے لحاظ سے آپ کامل انسان ہیں۔کسی اور انسان نے اپنے اس کمال کو ان رفعتوں تک نہیں پہنچایا جن رفعتوں تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یعنی خدا تعالیٰ کے پیار کو پہنچایا۔یہ تو ہے بالا ہستی سے پیار، بالاترین هستی ، صاحب عظمت و جلال ہستی جس سے بڑی ہستی کوئی تصور میں نہیں آسکتی اس کے ساتھ محبت اور لگن اور پیار اور اس سے تعلق کے لئے طبیعتوں میں ایک Urge اور جوش اور دوسری طرف بنی نوع انسان سے ہمدردی ہے۔یہ بھی خدا تعالیٰ نے پہلے دن سے انسان کے اندر رکھی۔انسان کی فطرت میں یہ پیدا کیا کہ اپنے بھائیوں کی ہمدردی تیرے دل میں ہونی چاہیے اور ہے یعنی اس کی فطرت میں یہ مادہ ہے کیونکہ فرمایا وَ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا (النساء :۲) کہ خدا تعالیٰ نے آدم کا جوڑا، اس کا ساتھی (اسے حوا کہہ لو ) آدم کے وجود سے پیدا کیا اس کا گوشت آدم کی ہڈی سے بنا۔وہ ایک بن گئے اتنا تعلق ہے، یہ دوسرا تعلق ہے۔پس اس