خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 469
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۶۹ خطبه جمعه ۱/۲۰ کتوبر ۱۹۷۸ء ہوتے۔یہ تو نہیں کہ ہماری جھولیاں خالی ہوگئیں تو ہم ادھر کہیں سیاست کے اوپر اور ادھر کہیں دنیوی اغراض کے اوپر ہاتھ ماریں اور مٹھیاں بھر کر اپنی جھولیوں میں ڈالیں۔ہماری جھولیاں خدا تعالیٰ کے فضل سے قرآنی انوار سے بھری ہوئی ہیں ان جھولیوں میں سے نکالو۔قرآن کی باتیں کرو ، اخلاقی باتیں کرو، دینی باتیں کرو ، تربیتی باتیں کرو، آج کی دنیا کی جو دینی ضرورت ہے اس کے متعلق باتیں کرو، پیار کی باتیں کرو، فساد کی باتیں نہ کرو۔کوئی احمدی فساد کی باتیں کرتا ہی نہیں لیکن پھر میں کہتا ہوں قرآن کریم نے بار بار کہا ہے، مجھے بھی حکم دیا ہے، آپ کو بھی حکم دیا ہے که بار بار قرآن کریم پڑھا کرو۔بار بار قرآن کریم ہمیں یہ کہتا ہے میں بھی کہوں گا کوئی ایسی بات نہ ہو جو اصلاح خلق ، ہمدردی خلق اور خیر خواہی خلق کے خلاف ہو۔ساری دنیا کے دل پیار سے جیتنے کا جب میں باہر دورے پر جاتا ہوں دنیا میں اعلان کرتا ہوں۔تم اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالو، اس کے مطابق اپنی زبانوں کو استعمال کرو، اس کے مطابق اپنے اعضاء سے کام لو۔خدام میرے نہایت ہی پیارے بھائی اور بچے ہیں وہ اس بات کو یا درکھیں کہ ہر چیز ہمیں اپنے رب کریم سے ملتی ہے اس لئے اس کی طرف جھکے رہو۔خصوصاً ان ایام میں کیونکہ اجتماعی زندگی میں بعض حالات انسانی نفس میں Iritation ( جھنجھلا ہٹ ) پیدا کرتے ہیں اور اس وقت انسان کی سوچ بھی غیر محتاط ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ انسان غیر محتاط رنگ میں بولنے لگتا ہے اس لئے خدا کی طرف جھکے رہو تا کہ اپنے نفس کو بھول جاؤ اور خدا تعالیٰ کے ذکر میں اپنے لمحات کو گزارو اور دعائیں کرتے رہو۔دعائیں کرو دنیا کے لئے اور دعائیں کرو اپنے ملک اور اس کے استحکام کے لئے۔اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پر فضل نازل کرے اور اسے مضبوط بنائے اور اس کے دشمنوں کے شر سے ہمارے پیارے ملک کو محفوظ رکھے اور ہمیں ترقیات دے اور ہمارے لئے اگر اندھیرے ہیں جہاں بھی ہیں اور جو بھی ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان اندھیروں کو دور کرے اور ان کی بجائے نور کے سامان پیدا کر دے اور وہ حسن جو اسلام دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے وہ یہاں نظر آئے خصوصاً ہماری زندگیوں میں۔پھر دعائیں کریں جماعت کے لئے کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر شر سے محفوظ