خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 468
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۶۸ خطبه جمعه ۱/۲۰ کتوبر ۱۹۷۸ء فیصلہ کر دیں۔ان کو اتنی عجلت میں فیصلہ کرنا بھی نہیں چاہیے۔ان کا جو طریق ہے اور قانون کا جو تقاضا ہے اس کے مطابق ان کو کام کرنا چاہیے۔چنانچہ اس بات کا خیال رکھتے ہوئے ۲۱ /اگست کو درخواست دے دی گئی کہ ان تاریخوں میں خدام الاحمدیہ دار النصر میں باہر کھلی جگہ میں اپنا اجتماع منعقد کرنا چاہتی ہے۔اجتماع منعقد کرنے اور لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔چنانچه درخواست چلی گئی۔متعلقہ حکام نے اس پر غور کیا ہوگا ، ہر جگہ سے رائے لی ہوگی ،مشورے کئے ہوں گے اور ستمبر کے آخر میں گویا ایک مہینہ دس دن کے بعد انہوں نے اجازت دے دی۔ہم بڑے خوش ہوئے۔ویسے تو خدام الاحمدیہ اپنے انتظامات پہلے کر لیتی ہے لیکن کئی دن پہلے اجازت مل جانے سے اجتماع کا انتظام بڑی تسلی اور بشاشت سے عمل میں آیا۔بعض دفعہ ہمیں یہ بھی شکایت پیدا ہو جاتی تھی کہ بالکل آخری وقت میں اجازت دی جاتی جس کی وجہ سے کئی کام نہیں ہو سکتے تھے یا ہوتے تھے تو بڑی بددلی سے ہوتے تھے لیکن اس دفعہ قریباً انیس، ہیں دن پہلے اجازت ملنے سے انتظامات کرنے کا خاصا موقع مل گیا۔چنانچہ آج پروگرام کے مطابق تین بجے بعد دو پہر انشاء اللہ خدام الاحمدیہ کا اجتماع شروع ہو رہا ہے۔ایک بات آپ سے بھی میں کہنا چاہتا ہوں۔ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے اور ہمارا یہ اجتماع دنیوی اغراض یا سیاسی اغراض کے لئے ہے ہی نہیں اور اس بات کا ہر ایک کو علم ہے لیکن میں آپ کو پکا کرنا چاہتا ہوں۔مجلس خدام الاحمدیہ میں کچھ لوگ منتظمین ہیں۔کچھ مقررین ہیں ان کی بڑی ذمہ داری ہے۔کوئی سیاسی بات نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہمارے خدام کوئی سیاسی بات کرتے ہیں لیکن پھر بھی میں کہتا ہوں کہ نہیں ہونی چاہیے۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ آج کی دنیا دوسروں کے متعلق تو حسنِ ظن رکھتی ہے لیکن ہمارے متعلق ایسا نہیں کرتی اس لئے خواہ مخواہ ان کو گنہگار کرنے کے لئے ہم بدظنی کے مواقع کیوں پیدا کریں۔اس لئے تم پوری طرح محتاط رہوتا کہ کسی کو بدظنی کا کوئی موقع نہ ملے۔پس کوئی ایسی بات منہ سے نہیں نکلنی چاہیے کہ جو کھینچا تانی کے بعد بدظنی پیدا کر کے قابلِ اعتراض بن جائے۔قرآن کریم کی تعلیم اتنی وسیع ہے کہ ہماری عمریں اور ہماری نسلوں کی عمریں تفسیر قرآن بیان کرتے ہوئے ختم ہو جا ئیں تب بھی قرآنی علوم ختم نہیں