خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 465
خطبات ناصر جلد ہفتم خطبه جمعه ۱/۲۰ کتوبر ۱۹۷۸ء ہے اور تنا بھی موٹا ہو جاتا ہے تو پھر وہ اپنی جڑوں پر قائم ہوجاتا ہے اور پھر اس کی زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت نہیں رہتی۔اسی طرح ان ممالک کی جماعتوں کو مالی لحاظ سے بیرونی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔اسلام کے عالمگیر غلبہ کی مہم تو اللہ تعالیٰ نے ایک منصوبہ بنایا ہے جس میں ساری دنیا کو باندھ دیا ہے۔انگلستان کی جماعت ہے یہ دوسرے ملکوں کی جماعتوں کو حسب ضرورت روپے بھیجتی ہے اور اس طرح تبلیغ اسلام کا سارا کام اپنی اپنی جگہ پر ہو رہا ہے۔پس اس عرصہ میں مرکز کے پاس بیرونی جماعتوں کی طرف سے کسی وقت بھی جماعت کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایک دھیلا نہیں آیا۔اس کے برعکس جماعت ہائے احمد یہ مرکز یہ کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ جب تک ملکی قانون نے باہر روپیہ بھجوانا منوع قرار نہیں دے دیا اس وقت تک مرکز باہر کی جماعتوں کی مدد کرتا رہا اور یہ بیرونی ملکوں کی جماعتوں پر بڑا احسان تھا۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی احسن جزا دے اور آپ کی نسلوں کو بھی۔آپ کے عزم کو پختہ کرے۔آپ کی ہمتوں کو بلند کرے اور تقویٰ کو مقبول بنائے اور اعمال کو صالح بنائے آپ خود بھی اور آپ کی آنے والی نسلیں بھی اس تحریک کے مجاہد، مسکین اور خدا کے عاجز بندے بنیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے انقلاب عظیم کی بشارت دی ہے اور جن کے ذریعہ سے گو چھوٹی سی جماعت ہے لیکن خدا تعالیٰ انقلاب عظیم بپا کر رہا ہے جیسا کہ صرف ایک بات بتا رہی ہے کہ ۱۹۳۴ ء بلکہ ۱۹۴۴ء کے بعد کتنا عظیم انقلاب بپا ہو گیا کہ وہ لوگ جو اسلام کے نام پر ایک دھیلا بھی دینے کے لئے تیار نہیں تھے ، ان کی مجموعی آمد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے تجاوز کر گئی اور تحریک جدید کی پچھلے سال کی آمد تیرہ لاکھ ہے صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے مجموعی چندے بھی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ نہیں بنتے لیکن اللہ تعالیٰ فضل کرنے والا ہے وہ بیرونی ملکوں کی جماعتوں پر بھی بڑے فضل کرتا ہے۔عشق الہی کا ایک ہی بندھن ہے اور وہ اس میں بندھے ہوئے ہیں۔ایک مرکز ہے۔ایک ان کا امام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک عاجز نائب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے برکتوں کا سامان اس کے ذریعہ سے بھی کرتا ہے اگر چہ پاکستان سے بیرونی ممالک کو روپیہ نہیں جاسکتا لیکن تحریک جدید کے بہت سے ایسے کام ہیں جن کا تعلق باہر سے ہے مثلاً باہر بھجوانے کے لئے مبلغ تیار کرنا۔وہ