خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 464 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 464

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۶۴ خطبه جمعه ۲۰/اکتوبر ۱۹۷۸ء کوئی چندہ نہیں دیتی تھیں ۱۹۴۴ء کے بعد چونتیس سال کے عرصہ میں ان کی چندوں کی آمد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔یہ ان کی اپنی آمد ہے۔وہی چندہ وصول کرتے ہیں اور رجسٹروں میں درج کرتے ہیں ان کی اپنی مجالس عاملہ ہیں جو آمد وخرچ پر غور کرتے ہیں۔وہ مرکز سے مشورہ ضرور لیتے ہیں۔مرکز ان کو مشورہ ضرور دیتا ہے لیکن وہ صاحب اختیار ہیں وہ جس طرح چاہتے ہیں دین کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اکثر ایسے ممالک ہیں یہاں سے روپیہ باہر لے جانے کی اجازت نہیں، اس لئے وہاں سے ایک دھیلا باہر نہیں جاسکتا مثلاً مغربی افریقہ کے ممالک ہیں جن کی میں ابھی مثال دوں گا وہ قانونا باہر پیسہ بھیج ہی نہیں سکتے۔پس ۱۹۴۴ء میں بیرونی ممالک کی جماعتیں محتاج تھیں مرکز کی امداد کی لیکن آج نہ صرف وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی ہیں بلکہ اگر ملکی قانون ان کی اجازت دیتا ہو تو مثلاً غانا کی جماعت ہے وہ شاید ایک اور مشن کو سنبھال لیتے لیکن چونکہ قانون اجازت نہیں دیتا اس لئے وہ کتابیں شائع کر رہے ہیں۔انہوں نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ شائع کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔پس غانا کی جماعت ایک مثالی ہے۔اس کی پچھلے سال کی اصل آمد ستائیس لاکھ نو ہزار پانچ سو تیس روپے ہوئی حالانکہ ۱۹۴۴ء تک ایک دھیلا بھی آمد نہ تھی۔غانا کے مقابلہ میں تحریک جدید انجمن احمدیہ کی گزشتہ سال کی آمد تیرہ لاکھ روپے تھی جبکہ غا نا ایک چھوٹا سا ملک ہے اور اس کی آبادی بھی زیادہ نہیں لیکن وہاں جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ان کے چندے پاکستان کی نسبت دو گنا ہو گئے ہیں وہ چونکہ پیسے باہر نہیں بھیج سکتے اس لئے اپنے ملک ہی میں خرچ کرتے ہیں۔ان کو کوئی تنگی نہیں ہے۔ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ باہر کی جماعتوں کی مدد کریں لیکن ان کا ملکی قانون ان کو اجازت نہیں دیتا اس لئے وہ مدد نہیں کر سکتے۔یہ تو میں نے غانا کی مثال دی ہے۔پھر سیرالیون ہے، نائیجیریا ہے، گیمبیا ہے، آئیوری کوسٹ ہے، لائبیریا ہے۔کہیں تھوڑی جماعت ہے کہیں زیادہ جماعت ہے کہیں ضرورت کم ہے اور کہیں زیادہ ہے لیکن وہ سبھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں۔جس طرح درخت کی جڑ جب مضبوط ہو جاتی