خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 460 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 460

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۶۰ خطبه جمعه ۱/۲۰ کتوبر ۱۹۷۸ء کیا تھا اور اس وقت ستائیس ہزار روپے کی ضرورت کا اعلان کیا تھا۔آپ نے بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کے کام کو وسیع کرنے کے لئے چندے کی تحریک کی اور اس کا نام ”تحریک جدید انجمن احمد یہ رکھا۔چنانچہ بیرونی ممالک میں اسلام کی تبلیغ کے کام میں وسعت پیدا کرنے کے لئے ۱۹۳۴ء کی ضرورت کے مطابق آپ نے رقم کا جو اندازہ لگا یاوہ کم و بیش ستائیس ہزار روپے کا تھا اور جماعت نے آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس غرض کے لئے جو چندہ اکٹھا کیا وہ کم و بیش ایک لاکھ روپے تھا۔اس سے تحریک جدید کی ابتدا ہوئی لیکن جیسا کہ میں نے ابھی اشارہ کیا ہے ایک چیز بڑی نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے۔جب میرے ذہن میں یہ خیال آیا اور یہ حقیقت میری آنکھوں کے سامنے آئی تو میرا دل خدا کی حمد سے بھر گیا کہ اس سارے عرصہ میں جب تک بیرونی جماعتیں بحیثیت مجموعی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جانے کے قابل نہ ہوئیں تحریک جدید کے منصوبہ کا بوجھ جماعت ہائے احمد یہ مرکزیہ نے اٹھایا۔جب میں جماعت ہائے احمد یہ مرکز یہ کہتا ہوں تو اس سے میری مراد ۱۹۴۷ء میں تقسیم ملک سے پہلے کی ہندوستان کی جماعتیں اور پھر پاکستان کی جماعتیں ہیں یعنی ۱۹۴۷ ء تک وہ جماعتیں مراد ہیں جو ہندوستان میں بستی تھیں لیکن اس کے بعد ملک تقسیم ہوا اور پاکستان بن گیا تو جماعت احمدیہ کا مرکز پاکستان میں اس چھوٹے سے قصبہ میں قائم ہوا۔اس کے بعد جماعت ہائے احمدیہ مرکزیہ سے تاریخی لحاظ سے اور زمانہ کے لحاظ سے وہ احمدی دوست مراد ہیں جن کی رہائش پاکستان میں ہے۔پس تقسیم ملک سے پہلے جو ہندوستانی جماعتیں تھیں اور اس کے بعد پاکستانی جماعتیں ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسلام کی بڑھتی ہوئی تبلیغی ضروریات کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائیں اور مالی اور جانی قربانی پیش کریں۔یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس سارے عرصہ میں بیرونی ممالک میں جوں جوں ہمارا کام بڑھتا گیا اور پیسوں کے لحاظ سے ضرورت پڑی جو وہاں میسر نہیں آرہے تھے ، مرکز سے بھجوائے گئے اور اس چوالیس سال کے عرصہ میں ایک پیسہ بھی باہر سے مرکز کو وصول نہیں ہوا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے مرکز سے تعلق رکھنے والے احمدیوں کے لئے دوسروں کے