خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 450
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۵۰ خطبه جمعه ۱/۱۳ کتوبر ۱۹۷۸ء تصویریں بھی لیتے رہے اور ان کی ٹیم کا انچارج جو پڑھا لکھا آدمی تھا گفتگو بھی کرتا رہا اور اس رات کو یا شاید اگلی رات کو انہوں نے آدھے گھنٹے کی T۔V (ٹی وی ) دکھا دی۔گویا ساٹھ ہزار ڈالر یعنی چھ لاکھ روپیہ کی۔اگر ہم ان کو کہتے کہ اتنی دیر دکھاؤ تو وہ کہتے کہ چھ لاکھ روپیہ نکالوتب دکھا ئیں گے۔پس خدا نے یہ تدبیر کر دی اور وہاں کے اخباروں نے بڑے لمبے نوٹ دیئے۔میں تو آرام آرام سے اور پیار کے ساتھ اسلامی تعلیم ان کو بتا تا ہوں اور اسلامی تعلیم میں آپ یا درکھیں بڑا ہی حسن ہے اور بڑی ہی قوتِ احسان ہے۔ان کو سمجھانا چاہیے کہ دیکھو کس طرح قرآن کریم کی شریعت تم پر احسان کر رہی ہے۔خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تمہاری بھلائی اور تمہاری شرافت کا اور ساری دنیا کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں تک لے جانے کا جو منصوبہ بنایا ہے اس کے اندر یہ یہ باتیں پائی جاتی ہیں۔اتنا اثر ہوتا ہے ان پر کہ آپ احمدی بھی یہاں گھر بیٹھے اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ان سے جا کر باتیں کریں تو تب پتا لگتا ہے۔ابھی میں مختصر کچھ باتیں بتاؤں گا پھر اگلے خطبوں میں جتنا وقت ملے گا بتا تا جاؤں گا۔اس وقت میں ایک حصّہ بتا رہا ہوں جس کا تعلق کا نفرنس کے ساتھ ہے۔اس کانفرنس میں سب سے آخر میں میں نے بولنا تھا اور میرے لئے مسئلہ یہ تھا کہ سوائے دعا کے اور میں کچھ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اگر اس کو ایک کتاب کہیں تو کتاب کے بہت سے باب ہوتے ہیں اور مجھ سے پہلے کسی نہ کسی مقرر نے ان ابواب کے عنوان کے ماتحت چھوٹے سے چھوٹے مضمون کو بھی تفصیل سے بیان کر دیا تھا۔آخر میں میری باری تھی میں نے بڑی دعا کی ، بڑی دعا کی ، دعا کی توفیق بھی خدا تعالیٰ دیتا ہے۔دعا یہاں سے شروع ہوئی کہ دماغ کھلتا ہی نہیں تھا بعض دفعہ یوں بھی ہوتا ہے۔دماغ بند تھا کئی کئی گھنٹے لگاؤں لیکن ایک لفظ بھی نہ لکھا جائے اور نہ لکھوایا جاسکے۔کچھ سمجھ نہ آئے کہ کیا معاملہ ہے خدا تعالیٰ نے دعائیں کروانی تھیں آخر وہ وقت بھی آیا کہ خدا تعالیٰ نے ان دعاؤں کو قبول کر لیا۔چنانچہ ایک دن ایک منٹ میں خدا تعالیٰ نے دماغ کھول دیا۔پہلے میں فرینکفرٹ میں قریباً بیس بائیس دن رہا تھا وہاں بھی دماغ نہیں کھل رہا تھا۔میں نوٹ لکھتا تھا لکھواتا تھا لیکن تسلی نہیں ہوتی تھی آخر جب خدائے عزیز وکریم کا فضل نازل ہوا اور میں