خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 449
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۴۹ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۸ء گیا پھر اخبار نے ان کو کہا کہ جواب دینا ہے تو دے دو۔چنانچہ انہوں نے جواب دیا۔جب اسی طرح دو چار دفعہ ہو چکا تو اخبار نے یہ فیصلہ کیا کہ اب اس بحث کو بند کرنا چاہیے کافی لمبی ہوگئی ہے لیکن انہوں نے عطاء المجیب کو کہا کہ ہم اس بحث کو بند کر رہے ہیں اب تم نے جو لکھنا ہے وہ ہمیں بھیج دووہ ہم شائع کریں گے اور اس کے نیچے لکھ دیں گے کہ آئندہ اس بارہ میں ہم کچھ شائع نہیں کریں گے یعنی اخبار نے پھر ہمیں موقع دے دیا۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ہمارا تو کوئی زور نہیں چلتا اور ابھی نیا مشن ہے اور اس کی کوئی ایسی آواز بھی نہیں مگر خدا تعالیٰ کو تو اس کی تدبیر میں کوئی انسان نا کام نہیں کرسکتا۔اس کا نفرنس کا اثر باہر کی جماعتوں پر بڑا خوشکن ہوا ہے۔میرے کہے بغیر سارے امریکہ کی مجلس عاملہ نے جو وہیں کے باشندوں پر مشتمل۔اپنے سر جوڑے اپنی میٹنگ کی اور یہ فیصلہ کیا کہ یہ جو بہت بڑا پراپیگنڈا ہو گیا ہے، دنیا گند کے اندر پھنسی ہوئی ہے اس لئے اب یہ بار بار ہونا چاہیے اور دنیا کے کانوں تک یہ آواز بار بار جانی چاہیے۔اس لئے دو ۲ سال کے بعد امریکہ کی جماعتیں اس قسم کی کانفرنس امریکہ میں کروائیں اور اس سے پہلے انہوں نے اس سلسلے میں پراپیگنڈا کرنے کے لئے نمونے کے طور پر ایک اور چھوٹا سا منصوبہ بنایا ہے تو انشاء اللہ دو ۲ سال کے بعد وہاں بھی کا نفرنس ہو جائے گی۔امریکہ کا قومی مزاج بھی اور وہاں کے اخبارات اور ریڈیو اور ٹیلیویژن کا مزاج بھی انگلستان اور Continent کے مزاج سے مختلف ہے۔وہ چرچ کا دباؤ جلدی قبول نہیں کرتے۔اگر Lobbying زیادہ ہو جائے تو قبول کر لیتے ہیں لیکن اتنی جلدی قبول نہیں کرتے جتنی جلدی مثلاً میرے خیال میں لندن کے اخباروں نے کیا۔اگر چہ وہ اس سے انکار کرتے ہیں لیکن ان کے چپ رہنے کی کوئی اور وجہ نہیں تھی۔میں جب ۱۹۷۶ ء میں نیو یارک گیا تو وہاں پریس کا نفرنس میں ایک T۔V (ٹی وی ) والے بھی آئے ہوئے تھے۔وہاں T۔V (ٹی وی) پرائیویٹ ہے وہ اپنے پیسے کماتے ہیں اور بڑے پیسے کماتے ہیں ان کے نرخ بہت زیادہ ہیں، ایک منٹ کے دو ہزار ڈالر یعنی ہیں ہزار روپیہ لیتے ہیں۔خیر وہ پریس کانفرنس میں آئے اور T۔V (ٹی وی) کے لئے