خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 410 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 410

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۱۰ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء اپنے رب کریم کی طرف زیادہ خشوع و خضوع اور ابتہال کے ساتھ متوجہ ہونے کے مواقع پاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اُس کی دعائیں عام حالات کی نسبت کثرت سے خدا تعالیٰ کے حضور مقبول ہوسکتی ہیں اگر دل میں اخلاص ہو اور کوئی کبھی اور فساد نہ ہولیکن ویسے یہ ایک عام اصول ہے خدا تعالیٰ کے ساتھ تو ہر آن اور ہر گھڑی ہر شئے کا تعلق ہے اور خدا سے زندہ تعلق قائم کرنا یہ ایک مسلمان کا فرض ہے۔خدا تعالیٰ کی خدائی تو اپنا کام کر رہی ہے خواہ انسان اس کی طرف متوجہ ہو یا نہ ہو اس کے جسم میں ہزار ہا تغیر اللہ تعالیٰ کے براہ راست حکم سے پیدا ہور ہے ہیں۔سائنسدان کہتے ہیں کہ ہمارا دماغ جب جسم کے کسی حصہ کو حکم بھیجتا ہے کہ یہ کام کرے تو Nerves (نروز ) کے ذریعہ وہ حکم چلتا ہے اور نر و مختلف ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ایک لمبی رہتی نہیں ہے جو دماغ کھینچ لیتا ہے بلکہ مختلف ٹکڑے ہیں جن کے درمیان فاصلہ ہے جب تک وہ فاصلہ Bridge ( برج) نہ ہو، پل نہ بنے تو وہ حکم آگے نہیں چل سکتا اور ایک خاص کیمیاوی مادہ ہے جو آگے برج کرتا ہے۔پس ہر حکم جو دماغ سے جاری ہوتا ہے وہ اپنی جگہ پہنچنے تک ایسے سینکڑوں پلوں پر سے گزر کر پہنچتا ہے جو خاص اس حکم کو پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ پیدا کئے جاتے ہیں اور سائنسدان یہ بھی کہتے ہیں کہ جب دماغ کا یہ حکم آگے نکل جائے اور پل کو کراس (Cross) کرلے تو اگر وہ کیمیاوی مادہ اسی طرح رہے تو اسی وقت انسان کی موت واقع ہو جائے۔اس لئے جس وقت وہ حکم اس پل کو عبور کرتا ہے اسی وقت خدا تعالیٰ کا دوسرا حکم آجاتا ہے اور اس کیمیاوی مادہ کو تبدیل کر دیتا ہے۔یہ تو ایک مثال ہے تم جسم کے کسی حصے کو لے لو وہ خدائی سے آزاد نہیں لیکن عام حالات میں انسان کو ایک آزادی دی اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف حالات پیدا کئے صرف انسان ہی محدود دائرہ میں اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر سکتا ہے مثلاً مادی جسم ہے وہ اسی طرح خدا تعالیٰ کے احکام کو سنتا ہے اور اُس کی وحی کو سنتا ہے اور اس کے مطابق کام کرتا ہے جس طرح درخت اور اس کے پتے ، جاندار، نباتات اور جمادات غرضیکہ ہر چیز پر خدا تعالیٰ کا حکم جاری ہوتا ہے۔جس طرح فرشتوں کے متعلق آتا ہے۔يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُوْنَ (التحریم:۷) خدا کا حکم آتا ہے اور اُن کے لئے خدا تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری کے سوا