خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 409
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۰۹ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء خلافت اتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ احمق ہوگا جو کہے کہ مجھے بیل جائے خطبه جمعه فرموده ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء بمقام مسجد فضل - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ہم ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں داخل ہو چکے ہیں۔یہ مہینہ بہت سی عبادات کا مجموعہ ہے۔اس میں روزے رکھے جاتے ہیں، قرآن کریم کی غیر معمولی طور پر کثرت سے تلاوت کی جاتی ہے صدقہ و خیرات کا حکم ہے۔یہ بھی ہدایت ہے کہ اپنے نفسوں کا اخلاقی لحاظ سے محاسبہ کیا جائے۔اسلام نے حُسنِ اخلاق کی جو تعلیم دی ہے اس کی طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہیے اور دعاؤں پر بہت زور دینا چاہیے۔قرآن کریم کی یہ بھی شان ہے کہ وہ بنیادی اصول ایسی جگہ بیان کر دیتا ہے جہاں اس کے پہلے مضمون کے ساتھ خاص تعلق ہو۔گو وہ مضمون ماقبل کے ساتھ بندھا ہوا تو نہ ہولیکن اس کا خاص تعلق ہو۔رمضان کے ساتھ دعا کا ذکر کر دیا۔فرمایا :۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة : ۱۸۷) اب دعا صرف رمضان کے مہینے میں ہی تو نہیں کرنی ہوتی لیکن رمضان کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی عبادات کو اکٹھا کر کے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ انسان اگر چاہے تو خاص طور پر