خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 400 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 400

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۰۰ خطبہ جمعہ ۱۴ / جولائی ۱۹۷۸ء پورے کریں اور اپنی سی کوشش کر دکھا ئیں۔فتح کا دارو مدار اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کے ذریعہ اسلام ساری دنیا پر غالب آئے گا۔لیکن غلبہ اسلام کی اس عظیم الشان کامیابی کے لئے ہمیں اپنے اندر وہی یقین اور قربانی کی روح پیدا کرنے چاہیے جو صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرہ امتیاز تھا۔آپ نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ خوشخبری دی ہے کہ ابھی تین صدیاں پوری نہیں ہوں گی کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے گا۔جماعت احمدیہ کی زندگی کی دوسری صدی جو عنقریب شروع ہونے والی ہے اس کے استقبال کے لئے صد سالہ جو بلی فنڈ کا اجرا کیا گیا ہے۔یہ در حقیقت غلبہ اسلام کی صدی ہے جس میں اسلام اپنے عروج کو پہنچ جائے گا لیکن اس کے لئے ہمیں نسلاً بعد نسل قربانیاں دینی پڑیں گی۔صد سالہ جو بلی فنڈ بھی انہی قربانیوں کا ایک اہم حصہ ہے۔اس منصوبہ کے تحت قرآن کریم کی وسیع پیمانے پر دوسری زبانوں اور ملکوں میں اشاعت کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں تبلیغی مراکز اور مطبع خانے قائم کرنے ہیں۔گوا سلام کے عالمگیر غلبہ کی ذمہ داری ہے اس کا سارا بوجھ تو ہم نہیں اُٹھا سکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں جتنی طاقت دی ہے اتنی قربانی دینے سے تو دریغ نہیں کرنا چاہیے۔حضرت صاحب نے انگلستان کے احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔انگلستان کی جماعت نے صد سالہ جو بلی فنڈ میں بڑے اخلاص کے ساتھ اور بڑے پیار کے ساتھ اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اچھی خاصی رقم کے وعدے کئے تھے لیکن حصہ رسدی ہر سال جو رقم آنی چاہیے اتنی نہیں آرہی۔دوستوں کو چاہیے کہ وہ میرے پاکستان جانے سے پہلے پہلے اپنے بقایا جات ادا کر کے کمی کو پورا کر دیں اور اس بات کو ہمیشہ یادرکھیں کہ دینِ اسلام کی سر بلندی کے لئے مال خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی غیر معمولی برکتوں سے نوازتا ہے۔حضور نے ۱۹۷۴ء کے کئی ایمان افروز واقعات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے لئے قربانیاں دینے والے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے عزت بھی بخشی اور دولت بھی عطا کی۔