خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 374
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۷۴ خطبه جمعه ۵رمئی ۱۹۷۸ء وقت سارے کے سارے انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جاتے اور ہم سمجھتے کہ جمع ہو گئے ہیں تب بھی ساری کی ساری نوع انسانی اسلام کے جھنڈے تلے جمع نہ ہوتی کیونکہ ایسے علاقے تھے ، انسان سے آباد علاقے جن کا ہمیں علم ہی نہیں تھا اور وہاں اسلام کی تعلیم پہنچ ہی نہیں سکتی تھی کیونکہ ان علاقوں اور ان اقوام کو ہم جانتے ہی نہیں تھے۔مثلاً فجی آئی لینڈ کی جو پرانی آبادیاں ہیں انہوں نے اس زمانے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہی نہیں سنا تھا۔اب ہمارا وہاں مشن ہے اور اللہ کے فضل سے اس پرانی قوم میں سے بھی (جو کہ قریباً چودھویں صدی میں ہی سامنے آئی ہے ) مسلمان ہونے شروع ہو گئے ہیں۔غرض ہر دو جگہ پر یعنی جہاں رَحْمَةٌ لِلعالمین کہا وہاں بھی اور جہاں كَافةً لِلنَّاسِ کہا وہاں بھی ایک وعدے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ایک جگہ کہا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کب پورا ہوگا۔یہاں قرآن کریم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فکر کی کیفیت بیان کی ہے اور پھر دوسری جگہ خدا تعالیٰ نے خود بتایا کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ چودھویں صدی سے اس وعدے کے پورا ہونے کا زمانہ شروع ہو جائے گا۔اب ہم اس زمانہ میں ہیں اور آج کے زمانہ کے مسلمان پر بہت بڑی ذمہ داری ہے اس لئے کہ جتنی بڑی بشارتیں کسی اُمت کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کے رسول کے ذریعہ سے ملتی ہیں (اور ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم الانبیاء اور افضل الرسل ہیں ) اتنی ہی بڑی ذمہ واریاں بھی ان پر ڈالی جاتی ہیں اور اتناہی یہ احساس بھی پیدا کیا جاتا ہے کہ انسان اپنے نفس میں اور اپنی ذات میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور اس کے اندر کوئی زور نہیں اور نہ کوئی طاقت ہے کہ وہ خدائی امداد اور نصرت کے بغیر اپنے زور سے قربانیاں کر کے ان وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائے۔انسان کو تو یہ کہا گیا ہے کہ جتنی تجھ میں طاقت ہے وہ کر دے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتا ہے، اس کی نصرت اور اس کی امداد سے ہوتا ہے۔پس اس زمانہ میں یہ وعدہ ہے کہ نوع انسانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو کر عملاً انسان کے سامنے یہ تصویر پیش کرے گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَحْمَةٌ لِلْعلمین ہیں۔اعتقاداً نہیں بلکہ عملاً یہ تصویر پیش کرے گی کیونکہ الا ماشاء اللہ چند ایک استثناؤں کے علاوہ ساری دنیا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان