خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 373 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 373

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۷۳ خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۷۸ء سارے پین کو اپنی رحمت کے احاطہ میں لے لیا اور دوسری طرف ایک وقت میں ترکی کی طرف سے یورپ کے اندر گیا اور ان کے دل جیتتا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔یہاں تک کہ پولینڈ کے دل جیت کر پولینڈ سے پرے جو سمندر ہے اس کے کناروں تک پہنچ گیا اور پھر ماسکو جو آجکل کمیونزم کا دارالخلافہ ہے ابھی ماضی قریب میں ہی تیمور کے زمانے میں یہ اس کی سلطنت کے ایک صوبے کا دارالخلافہ تھا۔تیمور کا اطلاعات دینے کا نظام بہت تیز رفتار تھا بادشاہ کو گھوڑوں پر بڑی جلدی ان علاقوں کی خبریں آجاتی تھیں۔پھر اسلام چین کی طرف بڑھا تو اس کے اندر گھس گیا۔غرض کہ وہ ترقی کرتا چلا جارہا تھا حتی کہ تین صدیوں کے بعد یہ ترقی رُک گئی اور تنزل کا دور شروع ہو گیا۔ترقی کے زمانہ میں نظر آ رہا تھا کہ معروف دنیا میں ، معلوم خطہ ہائے ارض میں اسلام بڑھتا چلا جا رہا ہے اور رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ اور كَافَةُ لِلنَّاسِ میں جو بشارت دی گئی تھی اور جو وعدہ دیا گیا تھا وہ پورا ہوتا نظر آتا ہے لیکن اس کے بعد تنزل آنا شروع ہو گیا۔یہ تنزل بھی اس قسم کا نہیں ہے جو دوسروں پر آتا ہے اسلام پر کبھی ویسا تنزل نہیں آیا لیکن بہر حال وہ ترقی رک گئی اور ایک تنزل آنا شروع ہوا۔سپین کی حکومت ختم ہو گئی اور وہ ملک مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا اور مسلمان جو پولینڈ تک آگے گئے ہوئے تھے وہ علاقے ان کے ہاتھ سے نکل گئے اور اب ترکی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو یورپ کے براعظم کے اندر ہے باقی ملک ادھر ہے اور تاشقند اور دوسرے بڑے بڑے علماء پیدا کرنے والے جو علاقے تھے وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئے۔چین میں بھی حکومت نہیں رہی۔پس ایک قسم کا تنزل ہے گو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ اس قسم کا زوال نہیں جیسا کہ دوسری قوموں اور دوسری اُمتوں پر آیا بلکہ اس زمانے میں بھی مسلمان میں روشنی اور جان نظر آتی ہے لیکن حالات کے لحاظ سے ہم اس کو تنزل کا زمانہ کہنے پر مجبور ہیں۔دوسری چیز جو ذہن میں آئی تھی پھر رہ گئی وہ یہ ہے کہ اس وقت اسلام ساری دنیا میں پھیل ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ ہمارے ان علاقوں کے انسان کو دنیا کے بہت سے حصے معلوم ہی نہیں تھے مثلاً امریکہ ہے، نیوزی لینڈ ہے، آسٹریلیا ہے، یہ Unknown (غیر معلوم ) علاقے تھے اور انسان کو ان علاقوں کے جغرافیہ کا ہی پتا نہیں تھا وہاں کی آبادیوں کا ہی پتا نہیں تھا۔پس اگر اس