خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 361
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۶۱ خطبه جمعه ۳۱ / مارچ ۱۹۷۸ء حکم یا امر اور ہدایت جو روحانی زندگی کی نعمتوں کے حصول کے لئے ہے خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کو پانے سے جس کا تعلق ہے اس میں انسان کو آزادی دی گئی ہے تا کہ دوسری دنیا کے انعامات کے جو مختلف حصے ہیں وہ اسے زیادہ سے زیادہ مل سکیں۔دوسری مخلوق مثلاً فرشتوں کے متعلق یہی کہا گیا ہے کہ جو کہا جاتا ہے وہ کرتے ہیں کیونکہ ان کی بناوٹ ہی ایسی ہے اس لئے ان کی کوئی خوبی نہیں اس لئے ان کے لئے کوئی ثواب نہیں ، کوئی انعام نہیں کوئی جزا اور سزا نہیں لیکن انسان کے لئے جزا سزا ہے مگر ہے ایک چھوٹے سے دائرہ میں جس کا تعلق اس کی روحانیت کے ساتھ ہے۔میں احباب جماعت کو بتایہ رہا ہوں کہ ہماری زندگی کے ہرلمحہ میں ہر جہت سے خدا تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہم پر نازل ہو رہی ہیں اس لئے ہماری زندگی کا کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو خدا تعالیٰ کی یاد سے خالی ہو یا ذکر الہی سے معمور نہ ہو۔کوئی نا سمجھ اپنی جہالت میں جو مرضی کہہ دے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اسلام نے ہمیں بتا دیا ہے اور قرآن کریم نے کھول کر ہم پر واضح کر دیا ہے اس لئے کوئی عقلمند انسان اس علم کے باوجود یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ انسان کے لئے ایک لمحہ بھی خدا تعالیٰ کے ذکر سے خالی رہنے کا کوئی جواز ہے، قطعاً کوئی جواز نہیں بلکہ انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ خدا تعالیٰ کی یاد میں گزرنے کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی نعماء کا بدلہ اور شکر ادا نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اپنی محدود طاقتوں کے ساتھ غیر محدود نعمتوں کا شکر کیسے ادا کر سکتا ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے کہا جتنی تمہیں طاقت دی ہے اس سے زیادہ تم پر بوجھ نہیں ڈالوں گا لیکن اس نے یہ ضرور کہا کہ جتنی طاقت دی ہے اتنا بوجھ برداشت کر لینا تا کہ میری رضا کی جنتوں میں داخل ہو سکو۔پس ہم پر دو ذمہ داریاں ہیں۔ہم سے مراد افرادِ جماعت احمد یہ ہیں جن کو میں نصیحت کرنے کا حق رکھتا ہوں اور مجاز ہوں۔ایک ذمہ داری یہ ہے کہ ہماری زندگی کا کوئی لمحہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خالی نہ ہو۔دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر سے اپنی زندگی کا ہر لمحہ معمور رکھنے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے دل میں یہ شدید تڑپ ہونی