خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 340 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 340

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۴۰ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء جو میں بتانا چاہتا ہوں وہ ہے تو بڑی اہم لیکن میں اسے اس وقت مختصراً بیان کروں گا۔چند دن ہوئے مجھے خیال آیا کہ ہمارے گھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چوتھی نسل کا ایک بچہ ہے جو ماشاء اللہ بڑا ذہین ہے۔چند دن پہلے اس کی عمر دو سال کی ہوئی ہے۔جس دن اس کی عمر دو سال کی ہوئی تو مجھے خیال آیا کہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہم پر عائد ہوتی ہے ہمیں چاہیے کہ ہم چوتھی نسل کو ہر لحاظ سے اس قابل بنائیں کہ وہ مہدی علیہ السلام کی جماعت کا ایک جاں نثار فرد بن جائے اور وہ مہدی علیہ السلام کی جماعت کے فرد کی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل ہو۔علمی لحاظ سے بھی اور عملی لحاظ سے بھی۔میں نے اس بات کا مختصر ساذ کر پچھلے دنوں دوستوں سے ملاقات میں بھی کیا تھا۔پس ہر نسل کو سنبھالنا ضروری ہے کیونکہ جو کام ہمارے سپرد ہے وہ تین سوسال میں اپنی انتہا کو پہنچے گا اور غلبہ اسلام کی صدی جو ہماری زندگی کی دوسری صدی ہے اس کے شروع ہونے میں اب بارہ تیرہ سال رہ گئے ہیں۔اب اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے دنیا میں بڑے انقلابی حالات پیدا ہور ہے ہیں۔پس جو بچہ آج دو سال کا ہے یہ جب غلبہ اسلام کی صدی شروع ہوگی تو پندرہ سولہ سال کا ہو گا اس لئے جو اس وقت بچے ہیں ان کو سنبھالنا ضروری ہے۔بہت سے بچے مجھ سے ملتے رہتے ہیں۔باہر سے بھی دوست ملاقات کے لئے آتے ہیں اور بعض دوست بچوں کو بھی ساتھ لے آتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کو بہت ذہین بچے دے رہا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے۔جماعت احمدیہ کو اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔جس قوم کو خداذ ہن نہ دے وہ تو گویا جہالت کی نذر ہو کر ہلاک ہوگئی۔قوم جاہل رہے گی تو وہ ترقی کر ہی نہیں سکتی۔جس قوم کو خدا ذہن دے اور وہ اس کو سنبھال نہ سکے تو وہ بڑی بد قسمت قوم ہے اس لئے کہ میرے نزدیک سب سے قیمتی عطا بچوں کا اچھا ذہن ہے۔اس قیمتی عطیہ کو نہ سنبھالنا بہت بڑی بد قسمتی ہے لیکن جس قوم کو خدا تعالیٰ ذہین بچے دے اور بچپن ہی سے ان کو سنبھالا جائے اس قوم کو اپنے مقصد کے حصول میں کوئی شبہ باقی رہتا ہی نہیں کیونکہ ایک طرف خدا تعالیٰ کی عطا بتا رہی ہے کہ وہ بنی نوع انسان کو کدھر لے جانا چاہتا ہے۔دوسری طرف جماعت کو اس بات کی توفیق دینا کہ خدا تعالیٰ نے جو عطا کی ہے اور جو ذہن دیا ہے بچوں کی پیدائش کے