خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 314 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 314

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۱۴ خطبہ جمعہ ۳۰؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کے مناسب حال بظاہر ایک ہی جگہ ہے اور وہ ہے لجنہ ہال کے ساتھ کی جگہ جو کہ کافی بڑا رقبہ ہے لیکن میرا خیال ہے کہ وہاں تل رکھنے کی بھی جگہ باقی نہیں رہی تھی اور ہماری ہزار ہا بہنیں اس جلسہ گاہ سے باہر تھیں۔جلسہ کے ایام میں ہی مجھے شکایت کے طور پر یہ اطلاع دی گئی ہے کہ تین ہزار سے زیادہ مستورات مردانہ جلسہ گاہ کی سیڑھیوں یعنی گیلریوں کے پیچھے بیٹھی ہوئی جلسہ سن رہی ہیں اور لکھنے والے نے لکھا تھا کہ یہ انتظام کرنا چاہیے کہ وہ اپنی جلسہ گاہ میں جائیں۔اب ان کو یہ تو نہیں معلوم تھا کہ اس انتظام سے پہلے کہ وہ عورتیں اپنی جلسہ گاہ میں جائیں یہ انتظام کرنا پڑے گا کہ ان کی جلسہ گاہ ان عورتوں کو سمیٹنے کے قابل بھی ہو۔اگر وہاں بیٹھنے کی گنجائش ہی نہیں ہوگی تو وہ وہاں سمائیں گی کیسے۔ایک وقت میں میرا خیال تھا کہ پندرہ ، بیس ایکڑ زمین لے کر سٹیڈیم بنادیا جائے اور اگر حالات معمول پر رہتے تو وہ بن جاتا اور جلسے پر بھی کام آتا اور باقی سارا سال بھی اس سے مختلف کام لئے جا سکتے تھے مثلاً ورزشی مقابلے وغیرہ اور ہم باہر سے بھی کھلاڑیوں کو یہاں بلاتے تاکہ وہ بھی کچھ دیکھتے اور اسلام کے متعلق کچھ سنتے لیکن پھر حالات ایسے ہو گئے کہ ہمیں یقین ہو گیا کہ اگر ہم نے یہاں سٹیڈیم بنایا تو ہمارے تعلیمی اداروں کی طرح اسے بھی حکومت قبضہ میں لے لے گی ( تعلیمی اداروں کا قومیائے جانے سے پہلے ہی ہمیں خطرہ پیدا ہو گیا تھا ) اور پھر یہ خطرہ تھا کہ جس طرح اب تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو دس دن کے لئے بھی رہائش کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی پھر وہ کہہ دیں کہ جی یہ جو تم نے پندرہ بیس لاکھ روپیہ خرچ کر کے سٹیڈیم بنایا ہے ہم تمہیں اس میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے اس لئے اس طرف توجہ نہیں کی گئی اور یہ منصوبہ چھوڑنا پڑا۔ضرورت تو بہر حال اللہ تعالیٰ نے پوری کرنی ہے لیکن کام ہمارے ہاتھ سے کروانا ہے۔ہم نے اس بارہ میں سوچ کر اور غور کر کے اور اپنی فراست سے کام لے کر کوئی تدبیر کرنی ہے کیونکہ اسباب کی یہ دنیا تد بیر کا مطالبہ کرتی ہے۔پس اگر کسی کے ذہن میں کوئی تجویز آئے تو وہ ضرور مجھے لکھیں اور ہم اسی طرح ایک دوسرے سے مشورہ کر کے آگے بڑھنے کی تدابیر کیا کرتے ہیں۔مردانہ جلسہ گاہ میں تو ہم غالباً پانچ سات سال تک کسی نہ کسی طرح گزارہ کر لیں گے لیکن زنانہ جلسہ گاہ کے متعلق مجھے بڑی فکر پیدا ہوگئی ہے