خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 295
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۹۵ خطبہ جمعہ ۹؍ دسمبر ۱۹۷۷ء زیادتی تو صرف پچاس کی ہوئی۔اسی طرح اگر سو کی بجائے ڈیڑھ سو آ گئے تو ڈیڑھ گنا ہو گئے لیکن زیادتی صرف پچاس کی ہوئی پھر آہستہ آہستہ وہ بڑھتے ہیں۔ہمارا پچھلے سال کے جلسے کا انداز ہ اس سات سو کے مقابلے میں سوالاکھ کی حاضری کا ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ احمدی جلسہ کی برکات سے حصہ لینے کے لئے ہر سال ہی زیادہ تعداد میں جلسہ میں شریک ہوتے ہیں اور ہر سال ہی ہمیں یعنی آنے والوں کو بھی اور یہاں کے مکینوں کو بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں کچھ حقیری قربانی کا موقع ملتا ہے۔ہماری قربانیاں تو ہیں ہی حقیر۔خدا تعالیٰ جو خالق کائنات ہے اور ہر چیز کا مالک ہے اس کے حضور ہم کتنا بھی کیوں نہ پیش کر دیں سب کچھ اسی کی ملکیت ہے اور جو ہم پیش کر رہے ہیں وہ بھی اسی کی ملکیت ہے۔پس ہم نے کیا پیش کیا؟ لیکن یہ اس کی ذرہ نوازی ہے کہ وہ ان ذروں کو جو تمثیلی زبان میں اس کی جوتی کے ذرے بن جاتے ہیں آسمانوں کی رفعتیں عطا کر دیتا ہے۔ہمارا اس پر کوئی حق تو نہیں ہے۔مالک اور خالق پر کسی کا کیا حق !لیکن وہ رب مہربان ہم پر مہربانی کرتا ہے اور ان حقیر قربانیوں کے مقابلے میں ہمیں ابدی جنتوں کی بشارت دے دیتا ہے بشرطیکہ ہمارے دل میں کوئی کھوٹ اور بھی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو کھوٹ اور کجی سے بچائے۔اس جلسہ پر بھی اہل ربوہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان سنبھالنے پڑیں گے۔اس سلسلہ میں جو چیز میں نے پہلے خطبہ میں نہیں کہی تھی وہ اب میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ ایک وہ آنے والے ہیں جن کی کسی خاندان سے دوستی یا رشتہ داری ہوتی ہے اور وہ ان کو لکھتے ہیں کہ آپ ہمارے لئے جگہ بنا ئیں اور وہ کوئی غسل خانہ خالی کر کے یا کوئی کمرہ خالی کر کے یا کسی برآمدہ میں انتظام کر کے ان کے لئے جگہ بنا دیتے ہیں اور کچھ ایسے آنے والے ہیں جو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آتے ہیں لیکن ان کو اپنی کوشش کے نتیجہ میں اس قسم کی چھوٹی موٹی جگہ بھی نہیں ملتی اور نہ مل سکتی ہے۔اس کے لئے اہل ربوہ کو تحریک کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مکانوں کا کچھ حصہ جلسہ سالانہ کے نظام کے ماتحت کر دیں تا کہ وہ لوگ جو اپنی کوشش کے نتیجہ میں کوئی جگہ حاصل نہیں کر سکے ان کے لئے بھی جگہ کا انتظام ہو جائے۔میں نے کئی دفعہ مثالیں دے کر بتایا