خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 287 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 287

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۸۷ خطبہ جمعہ ۲۵ نومبر ۱۹۷۷ء خدا تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ جب بعض خاص قسم کی باتیں اس کے سامنے آتی ہیں تو وہ ہنس پڑتا ہے اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ کھیلنے لگتی ہے۔یہ مسکراہٹیں تو آنی جانی ہیں۔جس طرح یہ دنیا آنی جانی ہے اور اس کے اموال آنے جانے ہیں اس کی مسکراہٹیں اور اس کی خوشیاں بھی آنی جانی ہیں،اس لئے کوئی عقلمند آپ کو یہ نہیں کہے گا کہ کسی دنیوی وجہ سے جو مسکراہٹ ہے وہ ہمیشہ آپ کے چہرے پر رہنی چاہیے۔یہ دنیا کیا اور اس کی مسکراہٹیں کیا لیکن بہت سی خوشیاں ایسی ہیں جن کا سر چشمہ اور منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کا پیار ہے اور اس کی بشارتیں ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خوش ہوا اور خوشی سے اچھلو کہ غلبہ اسلام کے دن آگئے ہیں۔( میں آپ کے الفاظ نہیں لے رہا بلکہ میرے ذہن میں مفہوم ہے ) اب جس شخص کی مسکراہٹ اس وجہ سے ہے کہ غلبہ اسلام کے دن آگئے ہیں اس کی مسکراہٹ کو تو کوئی دنیوی طاقت نہیں چھین سکتی کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسلام کو تمام دنیا میں غالب کرے گا تو خدا تعالیٰ کے منصوبے کو تو دنیا کی کوئی طاقت نا کام نہیں کر سکتی اور جب اللہ تعالیٰ کی منشا نے ہماری مسکراہٹوں کو غلبہ اسلام کے ساتھ باندھ دیا ہے تو ہم مسکرائیں گے اور ہر حالت میں مسکرائیں گے۔دنیا مسکراہٹوں کے بعض عجیب نظارے دیکھتی ہے۔بعض نو جوان بچیوں کے بارے میں مجھے علم ہے خود ہمارے گھر میں ایک واقعہ ہوا کہ پلوٹھی کا بچہ پیدائش کے ساتھ ہی مر گیا۔میں نے سوچا کہ جب ڈاکٹر اجازت دے گا تو میں جا کر بچی کو تسلی دوں گا لیکن جب میں کمرے میں داخل ہوا تو وہ مسکرا رہی تھی اور مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ اتنا صبر اور تحمل۔خدا کی چیز تھی اس نے لے لی۔جیسا کہ میں ماضی قریب میں بتا چکا ہوں کہ غلبہ اسلام کے لئے خدا تعالیٰ نے چھوٹوں اور بڑوں کو کہا ہے کہ تم اپنی جان نہیں بلکہ اپنی زندگی کو قربان کرو، زندگی کے ہر لمحے کو قربان کرو تو وہ ان چھوٹی چھوٹی تکلیفوں کی کیا پرواہ کرتے ہیں۔پس جو رضا کا رجلسہ پر کام کر رہے ہوں پہلے میں ان کو کہتا ہوں کہ آپ ہنستے مسکراتے اور بشاشت والے چہروں کے ساتھ مہمانوں کی خدمت کریں اور ربوہ والوں کو کہتا ہوں کہ چہروں پر تیوریاں نہ چڑھیں بالکل ہشاش بشاش رہ کر جس قسم کی