خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 271 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 271

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۷۱ خطبہ جمعہ ۴ رنومبر ۱۹۷۷ء خدا تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رحیمیت تمہارے شامل حال نہ ہو اور تمہاری تدبیر کی کوتاہیوں کمزوریوں کو اس کی مغفرت کی چادر ڈھانپ نہ لے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے تمہاری کوششوں کا نتیجہ نہ نکالے۔یہی اعلان پہلی آیت میں ہے کہ نبی عِبادِی أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ لوگوں کو بتاؤ کہ غفور اور رحیم میں ہی ہوں اور جس دائرہ کے اندر تم صاحب اختیار ہوا گر اس دائرہ میں تم اپنی فلاح اور بہبود چاہتے ہو، اگر اس دائرہ میں تم خدا تعالیٰ کی رحمتوں سے حصہ لینا چاہتے ہو، اس کی رضا پانا چاہتے ہو اور اس کی جنتوں میں داخل ہونا چاہتے ہو تو غفور اور رحیم خدا سے تعلق پیدا کرو اور ان صفات کا واسطہ دے کر اس سے دعائیں کرو کیونکہ اس کے بغیر انسان کی کوشش بے نتیجہ رہ جاتی ہے اور بے شمر ہو جاتی ہے۔یہ جو میں نے کہا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحیمیت اور اس کی مغفرت سے مدد حاصل کرو۔اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا: - قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) کہ اگر تم دعا کے ذریعے خدا تعالیٰ کی مغفرت اور رحیمیت اور خدا تعالیٰ کی دوسری صفات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرو گے تو پھر خدا تعالیٰ تمہاری کیا پرواہ کرے گا۔دعا ہی ہے جو خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو جذب کرتی ہے۔اگر تم بندہ ہونے کے باوجود اس سے دعا نہیں کرو گے اور اس کی پر واہ نہیں کرو گے تو وہ تو غنی اور حمید ہے وہ غنی ہوتے ہوئے تمہاری کیا پرواہ کرے گا اس کو تو تمہاری حاجت نہیں تمہیں اس کی احتیاج ہے۔خدام الاحمدیہ کا جو اجتماع آج سے شروع ہو رہا ہے یہ غالباً تین سال کے وقفہ کے بعد چوتھے سال کا اجتماع ہے۔تین سال تک حکومت وقت کی طرف سے خدام الاحمدیہ کو اجتماع کرنے کی اجازت نہیں ملتی رہی اس لئے اس چوتھے سال میں جس انتظامیہ یا حکومت نے ہمیں اجتماع کرنے کی اجازت دی ہے ہم ان کے ممنون ہیں اور ان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے خدام احمدیت کو خدام الاحمدیہ کے اجتماع کی اجازت دی اور ہم ان کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ ہی صحیح معنی میں نیکیاں کرنے کی توفیق دیتا رہے تاکہ وہ حسین معاشرہ جو اسلام ساری دنیا میں پیدا کرنا چاہتا ہے ہمارے ملک میں بھی پیدا ہو جائے۔اس اجتماع کو میں ذکر الہی اور دعاؤں کا اجتماع قرار دیتا ہوں اور آپ کو یہ ہدایت دیتا ہوں کہ اس اجتماع کے دوران آپ اللہ تعالیٰ کا