خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 262
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۶۲ خطبہ جمعہ ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۷ء پس جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے الہی سلسلے کی ترقی کے لئے یہ بھی ضروری ہے۔ویسے صرف مالی قربانی ہی نہیں۔خدا تعالیٰ ہم سے ہر قسم کی قربانی مانگتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة : ٤ ) کہ جو ہم نے تمہیں دیا ہے وہ میری راہ میں تمہیں واپس کرنا پڑے گا۔مثلاً ہمارا وقت ہے، ہماری دولت ہے، ہماری اولاد ہے اور ہمارے جذبات ہیں یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں اور ان کو خدا کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔جماعت احمدیہ اس قسم کی قربانیوں کی مثال آپ ہے۔مثلاً جذبات کی قربانی کو لے لیں۔۱۹۷۴ء میں خدا تعالیٰ نے جماعت سے جذبات کی کتنی بڑی قربانی لی مگر اس نے اپنے فضل سے انعام بھی بہت بڑا دیا۔ہم اس کے فضلوں کا شمار نہیں کر سکتے۔بہر حال مالی قربانی چونکہ حساب کے اندر بندھ جاتی ہے اس لئے اس کا بار بار ذکر ہوتا رہتا ہے۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے وہ لوگ جو دو آنے ، چار آنے چندہ دینے والے تھے ان کی اس قربانی کے مقابلہ میں ان پر جو فضل نازل ہوئے اس کی کوئی نسبت ہی نہیں۔میں ایک شخص کو ذاتی طور پر جانتا ہوں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں دونی، چونی دینے والوں میں سے تھے۔خدا تعالیٰ نے ان کو اولا د دی۔ان کے چار پانچ لڑکے مشرقی افریقہ چلے گئے۔ان کا باپ جو خدا کی راہ میں چار آنے دینے والا تھا خدا تعالیٰ اس قربانی کے نتیجہ میں ان کو چار چار، چھ چھ بلکہ آٹھ آٹھ ہزار روپیہ ہر مہینہ واپس کر رہا تھا۔خدا تعالیٰ ہر دو جہاں کا مالک ہے وہ قرضے اپنے پاس نہیں رکھا کرتا۔وہ اس دنیا میں بھی انعام دیتا ہے اور جو اخروی زندگی میں ملنے والے انعام ہیں ان کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ تھا کہ تیرے ماننے والوں کے اموال میں برکت دوں گا۔اس قسم کی اور بہت سی بشارتیں ہیں لیکن میں اس وقت ان کا ذکر نہیں کر رہا۔میں اس وقت بتا یہ رہا ہوں کہ جماعت احمدیہ میں مالی قربانی کی روح کس طرح پیدا کی گئی۔جب آہستہ آہستہ خدا کی راہ میں پیسہ خرچ کرنے کی عادت پڑگئی تو پھر جماعت کے اندر لازمی چندے آگئے۔پھر وصیت آگئی دسویں حصے کی اور اگر کوئی چاہے تو ۱٫۳ تک وصیت کر سکتا ہے۔چنانچہ اس میں بڑی بڑی قربانی دینے والے لوگ پیدا ہو گئے۔پھر وصیت کا ۱/۱۰ دینے والوں