خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 261 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 261

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۶۱ خطبہ جمعہ ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۷ء کے قابل ہو گئے تو ان کی ادائیگی بطور فرض لازمی قرار دی گئی۔چنانچہ وہ لوگ جو زمین پر بھی زندہ رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے وہ ترقی کرتے کرتے اخلاقی اور روحانی طور پر آسمانی وجود بن گئے۔خدا تعالیٰ نے دنیا کی قیادت ان کے ہاتھ میں دے دی۔انہوں نے کسی قسم کا استحصال کئے بغیر بنی نوع انسان کی بے لوث خدمت کا ایک ایسا عجیب نمونہ دکھایا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔پس یہ ایک حقیقت ہے کہ الہی سلسلے اپنی قربانیوں کو آہستہ آہستہ بڑھاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کو پہلے سے زیادہ حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ان کی زندگی میں پہلو بہ پہلو ایک تدریجی عمل کارفرما ہوتا ہے یعنی ان کی جتنی بڑی قربانی ہوگی جتنا بڑا ایثار ہوگا جتنی زیادہ فدائیت ہوگی اور خدا کی راہ میں انسان جتنی زیادہ فنائیت اپنے اوپر طاری کرے گا اسی کے مطابق خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے انعام مل رہے ہوں گے۔اب اس زمانہ میں مہدی اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آگئے اور ایک چھوٹی سی جماعت آپ کے گرد جمع ہوگئی۔آپ ایسے زمانہ میں آئے جب خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے لئے کسی کو ایک پیسہ دینے کی بھی عادت نہیں تھی۔چنانچہ جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرد اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے ان کی مالی قربانی دونی، چونی اور اٹھتی تھی لیکن یہ دونی، چوٹی اور ٹھنی کی قربانی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ نظر آرہا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پہلے مقام سے نکل کر ایک درجہ آگے بڑھ گئے ہیں اور ان کے اندر ایک انقلابی حرکت پیدا ہوگئی ہے۔چنانچہ اس بات کو دنیا پر واضح کرنے کے لئے کہ کس طرح انقلابی مدارج طے کرنے والی ایک جماعت پیدا ہو گئی ہے آپ نے شروع میں دونی، چونی اور اٹھتی دینے والوں کے نام اپنی کتب میں لکھ دیئے کہ یہ وہ مخلصین ہیں جنہوں نے دونی دی یا چونی دی یا ٹھٹی دی تا کہ ایک تو قیامت تک مخلصین احمدیت ان کے لئے دعائیں کرتے رہیں اس لئے کہ انہوں نے ابتدائی زمانہ میں خدا کی راہ میں قربانیوں کی بنیاد ڈالی اور قربانی کرنے والی جماعتوں کے لئے ایک نمونہ بننے کی توفیق پائی اور دوسرے یہ کہ آنے والی نسلوں کو پتہ لگے کہ جماعت احمد یہ کس طرح ایک چھوٹی سی - قربانی سے چلی تھی لیکن مختلف مدارج طے کرتی ہوئی اب وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔