خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 256
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۵۶ خطبہ جمعہ ۲۸ ا کتوبر۱۹۷۷ء اللہ تعالیٰ نے سورۃ دھر میں فرمایا ہے کہ ایک چھوٹا سا قطرہ ہے جس سے بچے کی پیدائش شروع ہوتی ہے۔اس قطرہ میں بھی وہ سارے قومی موجود ہوتے ہیں جن کی نشو ونما حاصل کرنے کے بعد انسانی وجود ایک مکمل شکل اختیار کرتا ہے اور ترقی کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ ایک چوٹی کے معروف و مشہور سائنسدان کی صورت میں دنیا کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ أَمَشَاجِ نَبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (الدهر :۳) فرمایا انسان کی پیدائش ایک ایسے نطفے سے ہوتی ہے جس میں مختلف قو تیں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔پھر جب وہ نشوونما کے مختلف مدارج سے گزر جاتا ہے تو اسے دو بنیادی طاقتیں دی جاتی ہیں ایک مشاہدہ کی قوت یعنی بینائی اور ایک دوسروں سے سیکھنے کی قوت۔اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے انسان کو سمیع اور بصیر بنایا ہے۔وہ ان خدا دا د قوتوں کے ذریعہ دوسروں کے تجربوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إنَّا هَدَيْنَهُ السَّبِيلَ (الدھر: ۴) ہم نے انسان کو ہدایت کا راستہ دکھا دیا ہے، یعنی اس کے مناسب حال جو راہ تھی وہ اس کو دکھا دی ہے اور اس کے مقصدِ حیات کو پورا کرنے والی اور اس کو خدا کی طرف لے جانے والی اور خدا تک پہنچانے والی جو ہدا یت ہے وہ اس کو دے دی ہے۔اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے۔چنانچہ جب ہم انسان کی طاقتوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہدایت کی وہ راہ جو اس کی جسمانی قوتوں کی نشو و نما کے لئے ضروری تھی وہ اس کو مل گئی ہے اور اگر انسان اس پر چلے تو وہ مضبوط سے مضبوط جسم والا انسان بن سکتا ہے اور انسان کی جسمانی طاقتیں اپنے کمال کو پہنچ سکتی ہیں۔غرض قرآن کریم نے انسان کی دوسری طاقتوں کے علاوہ اس کی جسمانی طاقتوں کی حفاظت کے لئے اور ان طاقتوں کی نشوونما کے لئے بھی ہدایت دی ہے۔پھر نواہی یعنی برے کاموں سے روکنے والے احکام ہیں جو انسان کو تباہی اور ہلاکت سے بچاتے ہیں مثلاً انسان کی جسمانی طاقتوں کے لئے کھانا ایک ضروری چیز ہے لیکن بہت سی چیزیں کھانے سے منع کر دیا اور جو حلال چیزیں تھیں اور جن کے استعمال کی اجازت دی تھی ان کے متعلق بھی یہ کہا کہ دیکھو انسان انسان کی طبیعت میں فرق ہے۔بعض حلال