خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 255
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۵۵ خطبہ جمعہ ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۷ء انسانی پیدائش کی طرح الہی سلسلے تدریجا ترقی کرتے ہیں خطبه جمعه فرموده ۲۸ /اکتوبر ۱۹۷۷ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے تدریج کا اصول جاری کر رکھا ہے۔خدا تعالیٰ اپنی حکمت کا ملہ سے ایک چھوٹی سی چیز کو پیدا کرتا ہے اور پھر وہ اپنی صفات کے جلووں کے ذریعہ اس کو بتدریج بڑھاتا ہے یعنی ہر چیز کو آہستہ آہستہ وہ شکل دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتی ہے۔انسان کی پیدائش کے متعلق قرآن کریم نے بتایا ہے کہ اسے نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے۔وہ رحم مادر میں مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے بچہ بنتا ہے اور پیدائش کے وقت اس بچے کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ سب جانتے ہیں۔پھر وہی بچہ بڑا ہو کر آسمان کے ستاروں کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔چاند کے اوپر بھی اس کا پاؤں لگ جاتا ہے لیکن پیدائش کے وقت اس کی جو حالت ہوتی ہے اس میں بتدریج ترقی ہوتی ہے اور اس کی قوتیں آہستہ آہستہ نشو نما پاتی ہیں اور ہر انسان اپنی استعداد کے مطابق اپنے کمال کی طرف حرکت کرتے ہوئے ترقی کر رہا ہوتا ہے۔اگر وہ خوش قسمت ہو اور اس کی تدبیر مقبول ہو اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت پر قائم رکھے تو وہ اپنے دائرہ استعداد میں بالآخر کمال کو پہنچ جاتا ہے۔