خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 10
خطبات ناصر جلد ہفتم 1۔خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۷۷ء إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ملک صاحب کی ساری زندگی ہی حقیقی جذبہ کے ساتھ گذری (جس کا میں نے ابھی ذکر کیا تھا) آپ نے غیر ممالک میں ہمارا جو تبلیغی پروگرام ہے اس میں بھی حصہ لیا۔جرمنی میں بھی مبلغ رہے۔انگلستان میں بھی رہے۔جو تعلیم کی کوششیں ہیں جماعت کی اس میں بھی حصہ لیا۔مجلس تعلیم میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کام کیا۔ریویو آف ریلیجنز میں بھی بڑے لمبے عرصہ تک کام کرتے رہے اور پھر آخر میں بہت ہی اچھا سب سے اچھا کام کرنے کی توفیق ملی ویسے پہلے کام بھی اُسی سلسلہ میں تھے لیکن نمایاں ہو کر قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ اور قرآن کریم کے تفسیری نوٹ انگریزی میں تیار کرنے کا کام ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے شروع میں اس غرض کے لئے ایک کمیٹی بنادی تھی جس کے ممبر محترم ملک صاحب بھی رہے ہیں۔جہاں تک مجھے یاد ہے تین آدمیوں پر مشتمل کمیٹی بنی تھی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ، حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت ملک غلام فرید صاحب رضی اللہ عنہ تینوں کی ایک کمیٹی تھی جس نے انگریزی ترجمہ کا کام کیا اور جو مختصر تفسیری نوٹوں والا کام تھا اور کچھ ترجمہ کو Revise کرنے کا کام تھا اسے ملک صاحب مرحوم نے اپنی آخری عمر میں بڑی محنت کے ساتھ ایک ایک لفظ کی تحقیق کر کے مکمل کیا جو انگریزوں کے لئے بھی حیرانی کا باعث بنا یعنی اگر وہ غیر مسلم تھے اور انہوں نے قرآن کریم سیکھنے کی کوشش کی تو ان کے لئے بھی حیرانی کا باعث تھا اور باعث برکت تھا اُن احمدیوں کے لئے بھی جو قریباً ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کا ایک بڑا حصہ انگریزی دان بھی ہے۔تفسیری نوٹ فٹ نوٹ کی شکل میں ہیں جس طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے تفسیر صغیر کے نوٹ اردو میں ہیں انہی کے اوپر بنیا د رکھ کر ملک صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ نے تفسیری نوٹ تیار کئے ہیں۔الہی تقدیر تو اپنا کام کرتی ہے جو شخص اس دنیا میں آتا ہے اسے ایک دن جانا بھی ہوتا ہے۔اسی لئے ہمیں کہا گیا ہے کہ جب ایک دن جانا ہی ہے اور ہمیشہ کی زندگی ہے جس کے اندر تمہیں داخل ہونا ہے تو اس کے لئے زیادہ فکر کرنے کی ضرورت ہے۔حضرت ملک غلام فرید صاحب رضی اللہ عنہ نے بڑی پیاری زندگی گزاری ہے۔اُن میں دینی غیرت بھی بڑی تھی اور اطاعت بھی بڑی تھی یعنی خلافت کی اطاعت اور نظام جماعت کی