خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 9
خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۷۷ء چاہیے یعنی جب بچہ سننے کے قابل ہوتا ہے اُس وقت سے دینی تعلیم سکھانا شروع کرنا چاہیے۔میں نے اکثر دیکھا ہے اور بڑا نمایاں فرق محسوس کیا ہے مثلاً ایک خاندان ہے اُس کا بچہ جب سننے کے قابل ہوتا ہے یعنی بات سن کر سمجھ لیتا ہے تو والدین اُس کے کان میں نیکی کی باتیں ڈالتے ہیں۔چنانچہ جن بچوں کے کانوں میں بچپن میں دین کی باتوں کی آواز پڑتی ہے وہ بڑے ہوکر اُن بچوں کے مقابلہ میں ہزار گنا ، لاکھ گنا بلکہ کروڑ گنا اچھے ہوتے ہیں جن کے ماں باپ کہتے ہیں بچہ آپ ہی پڑھ جائے گا آپ ہی سیکھ جائے گا اس لئے وہ اپنے بچوں کے کانوں میں کوئی نیکی کی بات نہیں ڈالتے۔پس دوست اپنے بچوں میں سنے کی بھی خواہش پیدا کریں اور ان کو سنانے اور پڑھانے کی خود اپنے اندر بھی عادت پیدا کریں کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کو جو بیان سکھایا تھا وہ بنیادی علم ہے جس میں سارے علوم آ جاتے ہیں وہ اس زمانے میں ہر پہلو سے عروج کو پہنچ گیا ہے اس لئے اس زمانہ میں ترقی اسی آدمی کے مقدر میں ہے جو علم کی طرف توجہ کرتا ہے۔میں اس وقت علمهُ البيان ( الرحمن : (۵) کی تفسیر میں تو نہیں جاؤں گا۔یہ اپنی ذات میں ایک بڑا لمبا مضمون ہے۔اس وقت میں بتا یہ رہا ہوں کہ وقف جدید نے جن چھوٹے چھوٹے دیہات میں معلم بھیجے ہیں وہاں جو دوسری ضروریات ہیں وہ بھی پوری ہونی چاہئیں۔اُن کے پاس لٹریچر ہونا چاہیے۔لوگوں کے اندر سننے کی اور خود اُن کو سنانے کی عادت ڈالنی چاہیے تا کہ وہ اسلام کی ابتدائی تعلیم کو بھولیں نہیں جو رضا کار معلم ہیں وہ بھی ہمیں ملنے چاہئیں۔تین مہینے کا یہاں کورس ہے وہ یہاں تین مہینے رہیں۔دینی کتب پڑھیں اور مسائل سیکھیں۔اُن کو یا درکھیں۔بعض باتیں ان کو یاد کروائی جائیں۔ہماری کم سے کم جو ضرورت ہے وہ تو ہر جگہ بہر حال پوری ہو جانی چاہیے۔اس میں تو کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فر مائے اور جو کچھ میں نے کہا ہے وہ دراصل وقف جدید کے بیسویں سال کے آغاز کا اعلان ہے۔خدا کرے ہر نیا سال پہلے سال سے زیادہ برکتوں والا ہو ہمارے لئے بھی اور دنیا کے لئے بھی۔آج صبح ہمارے ایک مخلص بزرگ اور بھائی محترم ملک غلام فرید صاحب کی وفات ہوگئی ہے