خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 222 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 222

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۲۲ خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر۱۹۷۷ء کلام سے ظاہر نہ کرے جیسا کہ اس نے اپنے کام سے ظاہر کیا ہے لیکن انسان کو چونکہ معرفت الہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس بعد کو جو خالق اور مخلوق کے درمیان ہمیں نظر آتا ہے، اپنے کلام یعنی مکالمہ ومخاطبہ سے پاتا ہے اور پھر اس کے مکالمہ و مخاطبہ کے ساتھ تعلق رکھنے والے آسمانی نشان ہیں اور زندہ تجلیات ہیں جن کو اپنے بندوں کے حق میں ظاہر کرتا ہے اور پیش خبریاں ہیں جو اپنے بندوں کو وقت سے پہلے بتاتا ہے۔تب انسان اللہ تعالیٰ کی زبر دست قدرت کا ہاتھ اپنی زندگی میں دیکھتا ہے اور پھر یہ فاصلے جو خالق اور مخلوق کے درمیان واقع ہیں وہ معرفت الہی کے حصول کے لئے سکڑ جاتے ہیں اور انسان خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لیتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے:۔وو " بے شک وہ اب بھی ڈھونڈنے والوں کو الہی چشمہ سے مالا مال کرنے کو تیار ہے جیسا کہ پہلے تھا۔اس کے بغیر نہ سچی توحید قائم ہوسکتی ہے اور نہ یقینی طور پر خدا تعالیٰ کی ہستی کا انسان قائل ہوسکتا ہے۔“ پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ مخلوق کے ساتھ شدید تعلق رکھنے کے باوجود یعنی ہر ایک جان کی جان ، ہر ہستی کا سہارا اور ہر ہستی کو قائم رکھنے کے باوجود وہ الگ ہے۔وہ الْحَيُّ الْقَيُّومُ درووو ہے۔الحی کے معنے نیست سے ہست کرنے اور القیوم کے معنی اس کو قائم رکھنے والی ہستی کے ہوتے ہیں۔وہ الحی ہے انسان کو زندگی دیتا ہے۔وہ الْقَيُّومُ ہے اس کی زندگی کو قائم رکھتا ہے اور اس میں ایک پہلو تو اللہ کی ذات سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا اس کی مخلوق سے۔اَلْقَيُّومُ کی رو سے وہ سہارا بنتا ہے ہر ایک چیز کا ، تب وہ قائم رہتی ہے لیکن اس تعلق کے باوجود وہ کیس کیثْلِهِ شَيْءٍ (الشوری:۱۲) بھی ہے اور استَوٰی عَلَی الْعَرْشِ (الاعراف:۵۵) بھی ہے۔وہ سب سے برتر اور تمام مخلوق سے وراء الوراء بھی ہے اور تقدس کے مقام پر جلوہ گر ہے اور اس طرح الگ کا الگ بھی رہا، وہ انسان کے ساتھ مل بھی گیا۔اس نے انسان کے ساتھ تعلق بھی قائم کیا۔انسان نے اس کے پیار کی باتیں بھی سنیں۔انسان نے اس کی قدرت کے زبردست ہاتھ کے کرشمے بھی دیکھے۔گویا وہ دور ہونے کے باوجود انسان کے قریب بھی آ گیا۔انسان کیا ہے؟ خدا کی ایک عاجز