خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 221
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۲۱ خطبہ جمعہ کے را کتوبر۱۹۷۷ ء قطع کر لیتا ہے تب اس چیز پر فنا آجاتی ہے لیکن اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ کی رو سے انسان میں بھی خدا تعالیٰ اپنے نور کے ساتھ موجود ہے۔پس اس لحاظ سے انسان کے ساتھ اس کا بہت گہرا تعلق ہے پاکیزگی اور طہارت کے ذریعہ۔اس کے باوجود انسان کی جو مادی ترکیب ہے اور اس کا جو مادی وجود ہے وہ اپنی ہیئت کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کے نور سے اتنا دور ہے اور اتنے فاصلے پر ہے کہ اس کو پھلانگنا نہ انسان کی کسی طاقت کا کام ہے اور نہ اس کی عقل کا کام ہے، آپس میں بہت زیادہ بعد ہے۔قرب ہے تو ایسا کہ کوئی ذرہ بھی خدا کے نور سے خالی نہیں کیونکہ اللهُ نُورُ السَّبُواتِ وَالْأَرْضِ اور بعد ہے تو اتنا کہ انسان کی کیا مجال جو یہ کہے کہ میں خدا ہوں اس سے ملتا جلتا ہوں۔چنانچہ الله نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ سے ایک بد خیال پیدا ہو گیا لوگوں نے یہ سمجھا کہ پھر انسان عین اللہ بن گیا یا خدا کا وجود مخلوق کا عین بن گیا۔اس قسم کی لغو اور غلط اور فلسفیانہ بحثیں ہمارے درمیان آگئی ہیں حالانکہ ایسا سمجھنا غلط ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی جو اصلی شکل ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک طرف اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ہے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی ذات غیب الغیب اور وراء الوراء اور نہایت مخفی واقع ہوئی ہے۔اللہ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ذات غیب الغیب ، وراء الوراء اور نہایت مخفی ہے ایسی مخفی کہ خالق اور مخلوق میں فرق کرنے کے لئے جتنے الفاظ بھی استعمال کر لئے جائیں کم ہیں بہر حال اسلام ہمیں یہ کہتا ہے کہ تم اس دھوکے میں نہ رہنا کہ چونکہ اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ہے اس لئے انسان خدا بن گیا یا خدا انسان میں حلول کر گیا ہے۔اس قسم کے غلط خیال بعض لوگوں نے اپنا لئے ہیں جو درحقیقت گمراہی کا نتیجہ ہیں۔پھر ایک اور مسئلہ بیچ میں پیدا ہو گیا کہ جب خدا غیب الغیب ہے اور وراء الوراء اور نہایت مخفی ذات ہے تو ہماری عقل اور ہماری سمجھ تو اس کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتی پھر ہم اس کی معرفت کیسے۔حاصل کریں؟ تو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ وہ ہے تو وراء الوراء اور غیب الغیب اور نہایت مخفی ، اتنا مخفی که لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ (الانعام : ۱۰۴) تمہارے حواس اس کو حاصل نہیں کر سکتے تم اس کو سمجھ نہیں سکتے۔تم اس کی معرفت حاصل نہیں کر سکتے جب تک خود خدا تعالیٰ اپنے موجود ہونے کو اپنے