خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 194
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۹۴ خطبہ جمعہ ۱۶ رستمبر ۱۹۷۷ء 1066 کو بھی کچھ چیز نہیں سمجھنا چاہیے کہ جو کہتے ہیں کہ کسی کام کے شروع کرنے میں استمداد الہی کی کیا حاجت ہے۔خدا نے ہماری فطرت میں پہلے سے طاقتیں ڈال رکھی ہیں پس اُن طاقتوں کے ہوتے ہوئے پھر دوبارہ خدا سے طاقت مانگا تحصیل حاصل ہے کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ بے شک یہ بات سچ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے بعض افعال کے بجالانے کے لئے کچھ کچھ ہم کو طاقتیں بھی دی ہیں مگر پھر بھی اس قیوم عالم کی حکومت ہمارے سر پر سے دور نہیں ہوئی اور وہ ہم سے الگ نہیں ہوا اور اپنے سہارے سے ہم کو جدا کرنا نہیں چاہا اور اپنے فیوض غیر متناہی سے ہم کو محروم کر نا روا نہیں رکھا۔جو کچھ ہم کو اس نے دیا ہے وہ ایک امر محدود ہے اور جو کچھ اس سے مانگا جاتا ہے اس کی نہایت نہیں۔پس اگر تو ہم نے وہیں ٹھہرنا ہو جہاں تک ہماری اپنی طاقت ہمیں اپنی ہزار کمزوریوں اور غلطیوں کے باوجود پہنچا سکتی ہے تو ایک فلسفی خوش ہو سکتا ہے لیکن یہ خوشی اسے ہی مبارک ہو۔خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ جسے یہ بصیرت عطا کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو غیر متناہی ترقیات کے لئے پیدا کیا ہے، وہ محدود پر مطمئن نہیں رہ سکتا اس لئے وہ کام میں تدبیر کے وقت بھی اور دعا کے وقت بھی خدا تعالیٰ سے جو مانگتا ہے وہ غیر متناہی اور غیر محدود ہوتا ہے اور ہر اس انسان کو جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے مہدی کی جماعت کی طرف منسوب ہوتا ہے اس غیر محدود کی طرف نگاہ رکھنی چاہیے اور خدا سے بے انتہا مانگنا چاہیے اور اس کے لئے ہر کام سے پہلے اس کی مدد حاصل کرنی چاہیے۔اس کی برکت لینی چاہیے اور اس کی دعا سے اپنے کاموں کو شروع کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ سے ہماری یہ دعا ہے کہ وہ ہمارے تھوڑے کو بہت کر دے اور ہمارے کم کو زیادہ کر دے اور ہماری کمزوری کو طاقت بنادے اور ہماری غفلت کو بیداری میں تبدیل کر دے۔خدا کرے کہ خدا کے ایک نیک اور صادق اور خدا کی معرفت رکھنے والے بندہ کے جو اعمال ہوتے ہیں اس کے مطابق ہم سے اعمال سرزد ہوں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۴/اکتوبر ۱۹۷۷ ء صفحه ۲ تا ۴)