خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 193 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 193

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۹۳ خطبہ جمعہ ۱۶ ستمبر ۱۹۷۷ء یہاں تک کہ وہ دیکھتا ہے کہ میرا کچھ بھی اپنا نہیں بلکہ سب کچھ میں خدا سے پاتا ہوں۔جہاں کہیں یہ طریق کسی نے اختیار کیا وہیں تو حید کی خوشبو پہلی دفعہ میں ہی اس کو پہنچنے لگتی ہے اور دل اور دماغ کا معطر ہونا شروع ہوتا جاتا ہے بشرطیکہ قوت شامہ میں کچھ فساد نہ ہو۔غرض اس صداقت کے التزام میں طالب صادق کو اپنے پیچ اور بے حقیقت ہونے کا اقرار کرنا پڑتا ہے اور اللہ جل شانہ کے متصرف مطلق اور مبدء فیوض ہونے پر شہادت دینی پڑتی ہے اور یہ دونوں ایسے امر ہیں کہ جو حق کے طالبوں کا مقصود ہے اور مرتبہ فنا کے حاصل کرنے کے لئے ایک ضروری شرط ہے۔اس ضروری شرط کے سمجھنے کے لئے یہی مثال کافی ہے کہ بارش اگر چہ عالمگیر ہومگر تا ہم اس پر پڑتی ہے کہ جو بارش کے موقعہ پر آ کھڑا ہوتا ہے۔اسی طرح جو لوگ طلب کرتے ہیں وہی پاتے ہیں اور جو ڈھونڈتے ہیں انہیں کو ملتا ہے۔جو لوگ کسی کام کے شروع کرنے کے وقت اپنے ہنر یا عقل یا طاقت پر بھروسہ رکھتے ہیں اور خدائے تعالیٰ پر بھروسہ نہیں رکھتے وہ اُس ذات قادر مطلق کا کہ جو اپنی قیومی کے ساتھ تمام عالم پر محیط ہے کچھ قدر شناخت نہیں کرتے اور ان کا ایمان اس خشک ٹہنی کی طرح ہوتا ہے کہ جس کو اپنے شاداب اور سرسبز درخت سے کچھ علاقہ نہیں رہا اور جو ایسی خشک ہو گئی ہے کہ اپنے درخت کی تازگی اور پھول اور پھل سے کچھ بھی حصہ حاصل نہیں کر سکتی صرف ظاہری جوڑ ہے جو ذراسی جنبش ہوا سے یا کسی اور شخص کے ہلانے سے ٹوٹ سکتا ہے۔پس ایسا ہی خشک فلسفیوں کا ایمان ہے کہ جو قیومِ عالم کے سہارے پر نظر نہیں رکھتے اور اُس مبدء فیوض کو جس کا نام اللہ ہے ہر ایک طرفۃ العین کے لئے اور ہر حال میں اپنا محتاج الیہ قرار نہیں دیتے۔پس یہ لوگ حقیقی توحید سے ایسے دور پڑے ہوئے ہیں جیسے نور سے ظلمت دُور ہے۔انہیں یہ سمجھ ہی نہیں کہ اپنے تئیں بیچ اور لاشے سمجھ کر قادر مطلق کی طاقت عظمی کے نیچے آپڑ نا عبودیت کے مراتب کی آخری حد ہے اور توحید کا انتہائی مقام ہے جس سے فنا اتم کا چشمہ جوش مارتا ہے اور انسان اپنے نفس اور اس کے ارادوں سے بالکل کھویا جاتا ہے اور سچے دل سے خدا کے تصرف پر ایمان لاتا ہے۔اس جگہ اُن خشک فلسفیوں کے اس مقولہ