خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 153 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 153

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۵۳ خطبہ جمعہ ٫۵اگست ۱۹۷۷ء بنا یا گیا جس کے سپرد نوع انسانی کو اُمتِ واحدہ بنانا کیا گیا اور آپ نے بتایا ہے کہ اُمتِ واحدة بنانے پر تین سوسال سے زیادہ زمانہ نہیں لگے گا اور جیسا کہ میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ میرے نزدیک تو ہماری کامیابی کا زمانہ جسے قریباً آخری کامیابی کہنا چاہیے وہ دوسری صدی ہے جس کے لئے صد سالہ جو بلی فنڈ بھی قائم ہوا اور صد سالہ جو بلی کا منصوبہ بھی تیار ہو رہا ہے جس صدی کا ہم نے استقبال کرنا ہے، اسلام کے غلبہ کی صدی! پس اسلام کے غلبہ کی صدی نوع انسانی کے اُمتِ واحدة بن جانے کی صدی آرہی ہے تو یہ ساری پیشگوئیاں اور یہ سارے مقاصد ختم ہو گئے اور ایک منافق کی بڑ کی طرف ایک مومن کان دھرے گا ؟ یہ تو ویسے ہی نہیں ہوسکتا۔میں بھی جانتا ہوں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کہ جماعت کس قسم کی ہے لیکن ان کے لئے دعا کرنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ ان کے لئے تو بہ کا دروازہ بند نہ کرے کیونکہ بہت سے منافقوں کو خدا تعالیٰ نے تو بہ کی توفیق دی اور پھر انہوں نے قربانیاں دیں بلکہ بہت سے کافروں کو تو بہ کی توفیق دی اور انہوں نے قربانیاں دیں۔بتا میں یہ رہا ہوں کہ جس وقت خدا تعالیٰ ترقیات کے خاص جلوے ظاہر کرتا ہے اور اپنی صفات کے جلوے ظاہر کر کے جماعت کے لئے ترقیات کے سامان پیدا کرتا ہے تو اس وقت مفسد گروہ کے افراد کے اندر بھی ایک زندگی کی حرکت پیدا ہوتی ہے۔میں نے جو پہلی آیات پڑھی ہیں ان میں اسی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا أَمَنَا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيطِيْنِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ (البقرة : ۱۵) کہ جب وہ مومنوں کے سامنے جاتے ہیں تو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں إِذَا لَقُوا الَّذِينَ امَنُوا قَالُوا آمَنَّا کا صرف یہ مطلب نہیں کہ زبان سے کہتے ہیں بلکہ احکام کی ظاہری پابندی بھی کر لیتے ہیں مثلاً مسجد میں آکر نماز پڑھ لیں گے ( یہ بھی اپنے ایمان کا اظہار ہے ) تھوڑی سی مالی قربانی ہے تو اس میں شامل ہو جائیں گے۔ظاہری طور پر روزہ رکھ لیں گے لیکن روح ان کے اندر نہیں ہوگی اور جب وہ شیاطین کے پاس، مفسدین کے سرداروں کے پاس، نفاق کے سرداروں کے پاس جائیں گے تو کہیں گے کہ ہم تو مذاق کر رہے تھے ہم تو اصل میں تمہارے ساتھ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اس سے یہ نتیجہ