خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 147
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۴۷ خطبہ جمعہ ٫۵اگست ۱۹۷۷ء۔پھیلاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں ، آپ کے ارشادات میں بعض بڑی واضح ہدایتیں ہیں۔بینات ہیں۔تفسیر قرآنی کے حصے ہیں لیکن اس کی بجائے وہ متشابہات والا حصہ لے لیتے ہیں اور مِنْهُ ايْتُ مُحْكَمْتُ هُنَّ أُم الكتب ( ال عمران: ۸) جو اسلامی تعلیم کی جڑ ہے اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں حالانکہ میں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم میں متشابہات کا پایا جانا قرآن کریم کی عظمت کی دلیل ہے۔یہ بات اس کے نقص کی طرف اشارہ نہیں کرتی کیونکہ قرآن کریم میں جو اللہ کا کلام ہے معانی کے لحاظ سے اس میں ہزار ہا بطون بلکہ بے شمار اور ان گنت بطون پائے جاتے ہیں یہ تو خدا کا کلام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو چیز قدرت خداوندی کے ہاتھ سے خلق ہوئی ہے اس کی صفات بھی غیر محدود ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا ہزاروں سال سے علم میں ترقی کرتی چلی آرہی ہے اور محققین اور سائنسدانوں میں سے جو سمجھدار اور عقلمند ہیں وہ کھل کر یہ بیان کرتے ہیں کہ اتنی ترقی کے باوجود ہم ایسے ہی ہیں جیسے سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر ہم پانی کے متعلق کوئی بات کر رہے ہوں اور جو اصل سمندر ہے ، اپنی پوری وسعتوں کے ساتھ اور پوری گہرائی کے ساتھ اور اپنے پورے فوائد کے ساتھ اس کے مقابلے میں ہمارا علم بہت محدود ہے۔پس متشابہات جن کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے جیسا کہ کہا گیا ہے مَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَةُ إِلَّا اللهُ (ال عمران:۸) اگر یہ نہ ہوتے ، اگر قرآن کریم میں فقط آیات و محکمات ہی ہوتیں تولَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۸۰) قرآن کریم کا دعوی نہ ہوتا یعنی یہ کہ اُمت محمدیہ میں ایسے مطہرین پیدا ہوں گے جو اپنے اپنے زمانہ اور علاقہ کی ضرورتوں کے مطابق اللہ تعالیٰ سے اسرار روحانی سیکھ کر آگے لوگوں کو بتا ئیں گے۔غرض منافق بد عقیدگی پھیلاتا ہے اور متشابہات کے غلط معانی کر کے اور ان کو حقیقت سے دور لے جا کر فتنہ پیدا کرتا ہے۔اگر تاریخ کی مثالیں دی جائیں تو مضمون بہت لمبا ہو جائے گا۔پھر سورۃ بقرہ کی ان آیات میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ متکبر ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہیں اور مصلح ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور جب انہیں کہا جائے کہ دیکھو جو حقیقتا مخلص اور مومن ہیں تم بھی اسی طرح کے ایمان کا اظہار کرو، تکبر اور ریا وغیرہ تمہاری زندگی میں کیوں آگئے