خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 146 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 146

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۴۶ خطبہ جمعہ ۵ /اگست ۱۹۷۷ء فرق کر کے دکھا رہی ہے۔منافق اپنے آپ کو مومن تو کہتا ہے۔مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنین ایمان کا دعوی بھی ہے اور مومن بھی نہیں کیونکہ احکام ظاہری اس دعویٰ کے نتیجہ میں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذاتی محبت کا فقدان ہے۔تصنع اور نمائش اور ریا اس میں پائی جاتی ہے۔احادیث میں منافقوں کی جو بہت سی علامات بتائی گئی ہیں وہ قرآن کریم کی ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے بتائی گئی ہیں۔دوسری چیز ہمیں یہ پسی لگتی ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان نہیں ہوتا۔کہتے ہیں کہ خدا پر ایمان لاتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کو عَلَامُ الْغُيُوبِ نہیں سمجھتے يُخْدِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا۔دھو کہ خدا کو وہی دینا چاہتا ہے جو سمجھتا ہے کہ خدا دھو کے میں آسکتا ہے تو ان کے ایمان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ بظا ہر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں لیکن اپنی چالا کیوں سے وہ یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اور خدا کے صاحب فراست بندوں کے ساتھ دھوکا بازی سے کام لے رہے ہیں۔تیسری چیز یہ بیان ہوئی ہے کہ ان کے اعمال کے نتیجہ میں ان کے دل کا نفاق ہر آن بڑھنے والی بیماری بن جاتا ہے اور توبہ کا دروازہ ان لوگوں پر بند ہو جاتا ہے۔چوتھی بات ان آیات میں یہ بتائی گئی ہے کہ وہ جھوٹ بولنے کے عادی ہوتے ہیں اور چونکہ وہ ہر چیز میں جھوٹ بولنے والے ہیں اس لئے وہ اللہ کی نگاہ میں اس کے عذاب کے مستحق ٹھہرتے ہیں اور پانچویں یہ کہ وہ فتنہ اور فساد پیدا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جگہ فساد کے معنی یہ کئے ہیں کہ وہ کفر اور شرک ، اور بد عقیدگی پھیلا کر فساد پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ایمان کا دعوی ہے اور پھیلا رہے ہوتے ہیں کفر اور شرک ، اور قرآن کریم پر ایمان کا دعویٰ ہے اور قرآنی تعلیم کے خلاف جو بد عقیدگی ہے اس کا پرچار کر رہے ہوتے ہیں اور ان کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ ہم مصلح ہیں یہ نمائش ہے نا) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مصلح نہیں بلکہ مفسد ہیں اور وہ بد عقیدگی کو پھیلا کر فساد پیدا کرتے ہیں۔اسلام کی عظیم جدو جہد کے ساتھ منافق لگا ہوا ہے اور اس وجہ سے ہماری جماعت میں بھی منافق ہیں اور جیسا کہ میں نے پہلے ایک خطبہ میں بتایا تھا منافق متشابہات کو پکڑ کر بد عقیدگی