خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 117
خطبات ناصر جلد ہفتم 116 خطبہ جمعہ ۱۰ / جون ۱۹۷۷ء کوسنانہیں وغیرہ وغیرہ بہت سی چیزیں ہیں اور اس کے بعد پھر یہ کہیں کہ حسبنا اللہ ہمارے لئے اللہ کافی ہے، وہ اللہ جو رحمن ہے جس سے ایک لحظہ کے لئے بھی اگر ہم منہ موڑ لیں تو ہمارے لئے ہلاکت کا باعث ہے کیونکہ پھر شیطان ہم پر سوار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تو بھی کچھ ہے۔قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا کہ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اندر کوئی ایسی بات ہے کہ خدا تعالیٰ بھی ہمیں دنیوی عرب تیں اور دولتیں دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔دونوں جانے والوں کی زندگیاں ہمارے لئے ایک نمونہ ہیں۔ابوالعطا صاحب نے بھی بالکل نوجوانی کی عمر سے ہی خدا تعالیٰ کی راہ میں خدمت شروع کی اور آپ ایک بے نفس انسان تھے اور نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے جیسا کہ میں نے بتایا ہے دس سال کی عمر میں خدا تعالیٰ کی رحمت کے نشان دیکھے اور پھر ساری عمر دیکھتی رہیں۔کب سے دیکھنے شروع کئے اس کا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد میں ذکر نہیں ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ جو روایت کی تاریخ ہے اس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر قریباً دس سال کی تھی۔یہ ۱۹۰۷ ء کی روایت ہے کہ آپ نے کہا کہ میری یہ بچی بہت خوا میں دیکھتی ہے اور کثرت سے وہ سچی نکلتی ہیں۔یہ بھی رحمانیت کا جلوہ ہے اور میں شاہد ہوں ، ان کی زندگی کو بڑے قریب سے دیکھنے والا ، اور ہر و شخص شاہد ہے جس کا واسطہ ان سے پڑا کہ رحمن خدا سے انہوں نے کبھی منہ نہیں موڑا یعنی اپنے آپ کو کبھی کچھ نہیں سمجھا۔جو کچھ پایا یہی سمجھا کہ خدا کا فضل تھا کہ پایا نہ کہ میری کسی خوبی کی وجہ سے مجھے ملا۔اس نمونے پر اس اُسوہ پر ، جو چھوٹے چھوٹے نمونے ہر زمانہ میں پیدا ہوتے ہیں اگر ہم قائم ہو جا ئیں تو تبھی ہمیں ہدایت ملتی ہے اور بڑا اور عظیم نمونہ تو ایک ہی ہے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا۔کوئی شخص یہ کہہ کر ہدایت نہیں پاسکتا کہ میں رحیمیت کا قائل ہوں۔وہ بھی رحمت کا ایک جلوہ ہے لیکن اس کے پیچھے بھی رحمانیت ہی جلوہ گر ہو رہی ہے۔یا یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں یہ کرتا ہوں یا وہ کرتا ہوں اس واسطے مجھے کچھ مل گیا ، یہ بات غلط ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں کبر اور غرور سے محفوظ رکھے۔اگر آپ نے ہدایت پر قائم رہنا ہے تو قرآن کریم کہتا ہے کہ خدائے رحمن سے منہ نہ موڑ و