خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 116
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۱۶ خطبہ جمعہ ۱۰ / جون ۱۹۷۷ء ان کے دل میں پیدا ہوا وہ یہی تھا کہ یہ میری کسی خوبی کا نتیجہ نہیں محض خدا تعالیٰ کی عطا ہے۔میں ہر دو کے متعلق بات کر رہا ہوں یعنی نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور ابوالعطا صاحب کے متعلق۔ان کے رونگٹے رونگٹے سے یہ آواز نکلی کہ لا فَخُر - اپنی طرف سے کوئی چیز ہو تو آدمی فخر بھی کرتا ہے کہ میں نے یہ کیا اس واسطے مجھے اس پر فخر ہے لیکن جب یہ ہو کہ میں نے کچھ نہیں کیا تھا اور خدا نے اپنا فضل کر دیا تو پھر فخر کس بات کا۔اس کے متعلق تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ز بر دست اُسوہ ہے۔بہت سی حدیثوں میں آتا ہے کہ خدا نے مجھے یہ دیا وَلا فَخْرَ خدا نے مجھ پر یہ عطا کی وَلَا فَخْرَ خدا تعالیٰ نے مجھے اس رحمت سے نو از اولا فَخْرَ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ کہلوا دیا اور یہ حقیقت ہے۔پس سب سے حسین اور سب سے بزرگ اُسوہ تو ہمارے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے لیکن آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں امت محمدیہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بے حد فضلوں اور رحمتوں سے نوازا ہے اور جس کو نوازا ہے رحمانیت کے جلووں سے نوازا ہے اور جیسا کہ ان آیات قرآنیہ سے ہمیں پتہ لگتا ہے ان کو نوازا ہے جنہوں نے خدائے رحمن سے منہ نہیں موڑا۔قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ جس نے خدائے رحیم سے منہ موڑا اس کے ساتھ شیطان لگایا جاتا ہے بلکہ جس نے خدائے رحمن سے منہ موڑا اس کے ساتھ شیطان لگایا جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ ان کو نوازتا ہے جن کی زبانوں پر سب کچھ کرنے کے بعد بھی خدا کا ہی ذکر ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی لئے فرمایا ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد سمجھو کہ تم نے کچھ نہیں کیا اور جو پایا خدا تعالیٰ کی رحمانیت کے جلووں کے نتیجہ میں پایا اور اس کے فضل سے تمہیں ملا تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔میں نے بڑا سوچا ہے عقلاً بھی نہیں بنتا لیکن شرعاً اور اسلامی ہدایت کے مطابق تو بالکل نہیں بنتا۔جانے والے چلے گئے ہم سے جدا ہو گئے۔جہاں تک صدمے کا تعلق ہے وہ بھی انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے لیکن سوائے بعض رشتوں کے تین دن تک ہی سوگ منانے کا حکم ہے، زیادہ سے زیادہ آپ تین دن تک سوگ منا سکتے ہیں اور اس پر بھی پابندیاں ہیں۔سوگ بھی خدائے رحمن کو یاد کرتے ہوئے منانا ہے پیٹنا نہیں ، غلط قسم کے الفاظ منہ سے نہیں نکالنے، زمانے کو