خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 113
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۱۳ خطبہ جمعہ ۱۰ جون ۱۹۷۷ء حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور مکرم ابوالعطا صاحب کی زندگیاں ہمارے لئے ایک نمونہ ہیں خطبه جمعه فرموده ۱۰ جون ۱۹۷۷ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل دو آیات کی تلاوت فرمائی:۔وَ مَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقِيضُ لَهُ شَيْطئًا فَهُوَ لَهُ قَرِينَ - وَإِنَّهُمُ ليَصُدُّ ونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ۔۔(الزخرف: ۳۸،۳۷) پھر حضور انور نے فرمایا:۔چند سال کی بات ہے کہ مجھے گرمیوں میں دو ایک سال متواتر گرمی کی تکلیف ہو جاتی رہی جس کو انگریزی میں Heat Stroke (ہیٹ سٹروک ) یعنی گرمی لگ جانا کہتے ہیں اور وہ با قاعدہ بیماری کی شکل میں تھی جس میں بخار ہو جاتا ہے اور بڑی سخت تکلیف ہوتی ہے، بے چینی اور سر درد ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب گرمی کے ایام میں گرمی میری بیماری بن جاتی ہے۔پنے کمرے میں میں کام کرتا ہوں، ساری ڈاک دیکھتا ہوں ، ملاقاتیں کرتا ہوں، مطالعہ کرتا ہوں ، دعائیں کرتا ہوں، جو میرے کام اور فرائض ہیں وہ میں ادا کرتا ہوں لیکن گرمی میں باہر نکلنے سے مجھے شدید تکلیف ہو جاتی ہے چکر آنے لگ جاتے ہیں اور بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔میں دعا